• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

حرام کمائی کو پاک کرنے کا طریقہ

استفتاء

عرض یہ ہے کہ ایک شخص کی ساری کمائی حرام کی ہے اب اس نے حرام کمانے سے توبہ کرلی۔اب اس کے پاس جو مال ہے کیااس کے لیے کوئی حیلہ ہے جس سے وہ سارا مال حلال ہوجائے

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

جن لوگوں سے حرام ذریعہ سے رقم لی گئی تھی ان تک واپس پہنچانا ضروری ہے کوئی بھی عنوان اختیار کیا جا سکتا ہے مثلا یہ ہماری طرف سے قبول فرمائے یہ اپ کے لیے ہدیہ ہے وغیرہ اگر مالک تک پہنچانا ممکن نہ ہو تو پھر ثواب کی نیت کیے بغیر اس مال کو مستحق افراد میں تقسیم کر دیںوأما إذا کان عند رجل مال خبیث، فإما إن ملکہ بعقد فاسد، أو حصل لہ بغیر عقد، ولا یمکنہ أن یردّہ إلی مالکہ، ویرید أن یدفع مظلمتہ عن نفسہ، فلیس لہ حیلۃ إلاَّ أن یدفعہ إلی الفقراء۔إعلاء السنن ۔ج14ص359۔فتاوی عثمانی۔ج3ص124ترجمہ: اگر کسی کے پاس خبیث مال ہو اگر وہ اس کا مالک عقد فاسدسے بناہو یا اس کو بغیر عقد سے حاصل ہوئے ہیں اور اصل مالک تک پہنچانا ممکن نہ ہو اور وہ اس سے جان چھڑانا چاہتا ہے تو اس کی ایک صورت یہی ہے کہ اس کو فقراء میں تقسیم کردے ۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved