• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

جماعتِ ثانیہ میں شرکت کا حکم

استفتاء

مسجدِ محلہ یا مارکیٹ کے ساتھ ملحق محلہ میں جماعت ثانیہ کو علمائے کرام نے مکروہِ تحریمی لکھا ہے۔ اگر کوئی شخص جماعت اولیٰ سے رہ گیا ہو اور اسی دوران مسجد میں جماعتِ ثانیہ ہو رہی ہو تو بندہ جماعتِ ثانیہ میں شامل ہو جائے یا اکیلا نماز پڑھے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

سوال میں ذکر کردہ صورت میں جماعت اولیٰ سے رہ جانے والا شخص اسی مسجد میں ہونے والی جماعتِ ثانیہ میں شرکت نہ کرے بلکہ اکیلے نماز ادا کر لے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا معمول یہ تھا کہ اگر ان کی مسجد کی جماعت فوت ہو جاتی تو وہ اکیلے اکیلے نماز ادا کرتے تھے۔
امام ابوبکر عبد اللہ بن محمد رحمہ اللہ (ت:235ھ) روایت نقل کرتے ہیں :
عَنِ الْحَسَنِ رَحِمَہُ اللہُ قَالَ كَانَ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إذَا دَخَلُوا الْمَسْجِدَ وَقَدْ صُلِّيَ فِيهِ صَلَّوْا فُرَادٰى. 
مصنف ابن ابی شیبہ ج5ص55باب من قال یصلون فرادیولایجمعون رقم الحدیث 7188
ترجمہ: امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ و سلم  کے صحابہ  کرام رضی اللہ عنہم جب مسجد میں داخل ہوتے اور اس میں جماعت ہو چکی ہوتی تو وہ اکیلے اکیلے نماز پڑھتے تھے۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء 
مرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved