• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ اور فاتحہ و معوذتین

استفتاء

حضرات امامی اثنا عشری شیعہ کہلاتے ہیں ان پر ایک الزام ہے کہ وہ قرآن کی تحریف کے قائل ہیں لیکن جب بھی ان لوگوں سے اس موضوع پر بات کی جائے تو یہ حضرات کہتے ہیں کہ شیعہ امامیہ کے تمام مجتہدین عظام اسی قرآن کو محفوظ مانتے ہیں اور یہی قرآن نجف اور قم کے عظیم ترین مدارس میں مجتہدین عظام پڑھاتے ہیں ۔ پھر الزامی جواب دیتے ہیں کہ حضرت عبد الله بن مسعود رضی الله عنہ سورت الفاتحہ، سورت الفلق اور سورت الناس کو قرآن نہیں مانتے تھے ۔نعوذ باللہ۔ان الزامات کی کیا حقیقت ہے کہ اہل السنت والجماعۃ کی کتب میں تحریف والی روایات ہیں ؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

[۱]: تحریفِ قرآن کا نظریہ  ان لوگوں کی کتب میں وضاحت سے موجود ہے۔ ان کے محققین ”تحریفِ قرآن“ کی روایات کو ”متواتر“ کہتے  ہیں اور انہیں صحیح قرار دیتے ہوئے اپنے حضرات کی تصدیق بھی نقل کرتے ہیں۔ محمدباقر بن محمد تقی بن المقصود علی مجلسی (ت1111ھ) ایک روایت نقل کر کے لکھتے ہیں:
فالخبر صحیح ولا یخفیٰ أن ھٰذا الخبر وکثیر من الأخبار الصحیحۃ صریحۃ فی نقص القرآن وتغییرہ ، وعندی أن الأخبار فی ھٰذاالباب متواترۃ معنیً وطرح جمیعھا یوجب رفع الاعتماد عن الأخبار رأساًبل ظنی أن الأخبار فی ھٰذاالباب لایقصر عن أخبار الإمامۃ.
(مرآۃ العقول فی شرح اخبار آل الرسول:  ج4ص857)
ترجمہ: یہ حدیث صحیح ہے اور یہ بات مخفی نہیں کہ یہ روایت اور بہت سی دیگر صحیح  روایات  اس بات کی صراحت کرتی ہیں کہ قرآن میں کمی بیشی اور تبدیلی ہوئی ہے۔ نیز میرے نزدیک مسئلہ تحریف کی روایات معناً متواتر  ہیں۔ ان تمام روایات کو ترک کرنے کی صورت میں تمام روایات سے اعتماد بالکل اٹھ جائے گا بلکہ میرے نزدیک تو اس مسئلہ (تحریف) کی روایات عقیدہ امامت کی روایات سے کم نہیں۔
نعمت اللہ بن عبد اللہ الجزائری (ت1112ھ) نے لکھا ہے:
ان تسلیم تواترھا عن الوحی الالٰہی وکون الکل قد نزل بہ الروح الامین یفضی الیٰ طرح الاخبار المستفیضۃ بل المتواترۃ الدالۃ بصریحھا علٰی وقوع التحریف فی القرآن کلاماً ومادۃ واعراباً  مع ان اصحابنا رضوان اللہ علیھم قد اطبقوا علیٰ صحتھا والتصدیق بھا.
(الانوار النعمانیۃ:  ج2 ص311)
ترجمہ: اگر ان (قرآنی قرأتوں)  کے بارے میں یہ مان لیا جائے کہ  یہ اللہ تعالیٰ کی وحی ہیں جو تواتر سے ثابت ہیں اور یہ کہ ان میں سے ہر قرأت حضرت جبرئیل امین علیہ السلام لے کر نازل ہوئے ہیں تو اس سے ان تمام مشہور بلکہ متواتر روایات کو چھوڑنا پڑے گا جو صراحتاً قرآن کریم کی عبارت،  الفاظ اور اعراب میں تحریف بتاتی ہیں حالانکہ  ہمارے شیعہ حضرات ان روایات کی صحت پر متفق ہیں اوران کی تصدیق بھی کرتے ہیں۔
شیعہ مؤرخ  حسین بن  محمد نقی نوری طبرسی (ت1320ھ)  نے اس موضوع پر مستقل ایک کتاب بھی لکھی ہے جس کا نام ”فصل الخطاب فی اثبات تحریف کتاب رب الارباب“  ہے۔ اس کتاب میں مصنف نے  بزعمِ خود سینکڑوں مثالیں دے کر یہ ثابت کیا ہے کہ -معاذ اللہ- قرآن کریم میں تحریف ہوئی ہے۔ ان شیعی روایات کی تعداد بیان کرتے ہوئے موصوف لکھتے ہیں:
ان الاخبار الدالۃ علی ذلک تزید علی الفی حدیث وادعیٰ استفاضتھا جماعۃ کالمفید والمحقق الداماد والعلامۃ المجلسی وغیرھم بل الشیخ ایضاً صرح فی التبیان بکثرتھا بل  ادعیٰ تواترھا جماعۃ یاتی ذکرھا.
(فصل الخطاب: ص227)
ترجمہ: بلا شبہ وہ (شیعی) روایات  جن سے ثابت ہوتا ہے کہ قرآن میں تحریف ہوئی ہے دو ہزار سے زائد ہیں اور (شیعہ) علماء  کی ایک جماعت نے جن میں شیخ مفید، محقق داماد اور علامہ مجلسی  وغیرہ ہیں ان روایات کے مشہور ہونے کا دعویٰ کیا ہے بلکہ شیخ  طوسی نے ”تبیان“ میں صراحتاً لکھا ہے کہ  ان روایات کی تعداد بہت ہی زیادہ ہے بلکہ ایک جماعت نے تو ان روایات کے متواتر ہونے کا دعویٰ بھی  کیا ہے جن کا ذکر آگے آئے گا۔
جب ان کے محققین کے مطابق ”تحریف“ کے اثبات کی روایات متواتر ہیں جو ان کے اس نظریہ کی بنیاد ہیں  اور ان کے جید و معتمد علماء ان کی صحت اور تصدیق پر متفق ہیں تو بعض الناس کا یہ کہنا کہ ہم اس نظریہ کے قائل نہیں ہیں، ان کے اس نظریہ کو محو نہیں کر سکتا۔
[۲]: محققین اھل السنۃ والجماعۃ کے نزدیک حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے متعلق ایسی روایات موضوع، من گھڑت اور باطل ہیں۔ محققین علماء اس کی تصریح کر چکے ہیں۔ مثلاً
(1): علامہ ابو محمد علی بن احمد بن سعید بن حزم الاندلسی القرطبی (ت456ھ) لکھتے ہیں:
وَكُلُّ مَا رُوِيَ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِنْ أَنَّ الْمُعَوِّذَتَيْنِ وَأُمَّ الْقُرْآنِ لَمْ تَكُنْ فِي مُصْحَفِهٖ فَكَذِبٌ مَوْضُوعٌ لَا يَصِحُّ؛ وَإِنَّمَا صَحَّتْ عَنْهُ قِرَاءَةُ عَاصِمٍ عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ وَفِيهَا أُمُّ الْقُرْآنِ وَالْمُعَوِّذَتَيْنِ.
(المحلیٰ بالآثار لابن حزم:  ج1 ص28)
ترجمہ: حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے مصحف میں معوذتین اور سورۃ الفاتحہ کے نہ ہونے کے متعلق تمام روایات جھوٹی اور من گھڑت ہیں، ان میں کوئی بھی صحیح نہیں بلکہ قاری عاصم کی قرأت جو زر بن حبیش کے طریق سے صحیح طور پر مروی ہے اس میں سورۃ الفاتحہ اور معوذتین  موجود ہیں۔
(2): علامہ  محی الدین ابو زکریا یحییٰ  بن شرف النووی (ت676ھ) لکھتے ہیں:
أَجْمَعَ الْمُسْلِمُونَ عَلٰى أَنَّ الْمُعَوِّذَتَيْنِ وَالْفَاتِحَةَ وَسَائِرَ السُّوَرِ الْمَكْتُوبَةِ فِي الْمُصْحَفِ قُرْآنٌ وَأَنَّ مَنْ جَحَدَ شَيْئًا مِنْهُ كَفَرَ وَمَا نُقِلَ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الْفَاتِحَةِ وَالْمُعَوِّذَتَيْنِ بَاطِلٌ لَيْسَ بِصَحِيحٍ عَنْهُ..
(المجموع شرح المھذب للنووی:  ج3 ص396)
ترجمہ: تمام مسلمانوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ معوذتین، فاتحہ اور باقی وہ تمام سورتیں جو مصحف میں لکھی ہوئی ہیں یہ سب قرآن ہیں اور جس نے ان میں سے ایک چیز کا بھی انکار کیا وہ کافر ہے۔ نیز سورت الفاتحہ اور معوذتین کے متعلق حضرت ابن  مسعود رضی اللہ عنہ  سے جو نقل کیا جاتا ہے (کہ وہ انہیں قرآن کا حصہ نہ سمجھتے تھے)  تو  یہ بات باطل ہے، بالکل صحیح نہیں۔
(3): امام تاج الدین ابو نصر  عبد الوہاب بن علی  سبکی(ت 771ھ) لکھتے ہیں:
قلت وقد عقد القاضى أبو بكر فى كتابه الانتصار للقرآن … بابا كبيرا بين فيه خطأ الناقل لهذه المقالة عن عبد الله بن مسعود وأن الدليل القاطع قائم على كذبه على عبد الله وبراءة عبد الله منهما.
(طبقات الشافعیۃ الکبریٰ للسبکی:  ج3 ص258 تراجم الطبقۃ الثالثۃ)
ترجمہ:  میں (تاج الدین  السبکی) کہتا ہوں کہ قاضی ابو بکر (ابن العربی المالکی) نے اپنی کتاب ”الانتصار للقرآن“  میں ایک باب قائم کیا ہےجس میں انہوں نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی طرف اس بات (کہ وہ فاتحہ اور معوذتین کو قرآن نہیں مانتے تھے) کو منسوب کرنے والے کی غلطی کو واضح کیا ہے۔اس بات پر قطعی دلیل قائم ہے کہ یہ بات حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں گھڑی گئی ہے، آپ رضی اللہ عنہ کا دامن اس سے بری ہے۔
(4): علامہ عبد العلى محمد بن نظام الدین انصاری  لکھنوی  المعروف ”بحر العلوم“ (ت1225ھ)  لکھتے ہیں:
أن نسبة الانكار إلى ابن مسعود باطل.
(فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت :  ج3 ص16)
ترجمہ: حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی طرف (سورت فاتحہ اور معوذتین) کے انکار کی نسبت کرنا باطل ہے۔
خلاصہ یہ کہ محققین اھل السنۃ والجماعۃ کے نزدیک حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی طرف فاتحہ اور  معوذتین کے انکار کی نسبت کرنا غلط ہے۔ جو چند ایک روایات  اس بارے میں مروی ہیں وہ موضوع، باطل اور محض جھوٹ ہیں۔ نیز خود ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے جو قرأت مروی ہے اس میں سورۃ الفاتحہ اور معوذتین بھی موجود ہیں۔ لہذا بعض الناس کا حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب اس قول کو جزماً صحیح بنا کر پیش کرنا غلط ہے۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء 
مرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved