• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

شرابی کے جنازہ اور قبرستان میں دفن کرنے کا حکم

استفتاء

اگر کوئی شخص مسلمان ہے اور شراب پیتا ہے اور وہ نشے کی حالت میں مر گیا تو اس کا نماز جنازہ پڑھا جائے گا یا نہیں؟ نیز اس کو قبرستان میں دفن کریں یا نہ کریں؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

شراب پینے والا مسلمان اگرچہ فاسق و فاجر اور سخت گناہ گار ہے لیکن اسلام سے خارج نہیں ہوا۔ اس لیے ایسے شخص کی نماز جنازہ ادا کی جائے گی اور مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جائے گا۔ البتہ اس شخص کا جنازہ علاقہ کے عام لوگ پڑھ لیں، اہلِ علم اور معزز حضرات اس جنازہ میں شرکت نہ کریں تاکہ دوسروں کو عبرت حاصل ہو اور وہ اس گناہ سے نفرت کریں۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاء مرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved