• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

وائرس کی وجہ سےجمعہ اور پنج وقتی نماز گھر پڑھنا

استفتاء

آج کل نماز جمعہ مسجد میں پڑھنے پر پابندی ہے۔تو کیا ہم نماز جمعہ گھر میں پڑھ سکتے ہیں ۔ یا نماز ظہر پڑھنا ہو گا۔ اور خطبہ کون سا دینا چاہیے اور ہم باقی نمازیں بھی گھر میں جماعت کے ساتھ پڑھتے ہیں ۔ مسجد میں جماعت ہوتی ہے لیکن ہم احتیاط کی وجہ سے نہیں جاتے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

بہتر یہی ہے کہ مسجد میں جمعہ ادا کیا جائے لیکن اگر حکومت کی جانب سے رکاوٹ ہو تو ایسی صورت میں کمرہ یا مسجدمیں کچھ افراد جمع ہو کر جمعہ ادا کر لیں کیونکہ احناف کے ہاں جمعہ کی نماز کے لیے امام کے علاوہ تین افراد کافی ہیں لہذا ایسی صورت میں ایک شخص کو امام بنا لیا جائے اور مختصر خطبہ ہو جائے جس میں حمد و ثنا اور تقوی کا ذکر ہو ۔لیکن اگرمسجد میں جمعہ ادا کرنے کی گنجائش ہو تو اس صورت میں مسجد میں جمعہ ہی ادا کیا جائے۔جمعہ کے لیے مختصر سا خطبہ درج ذیل ہے:
پہلا خطبہ
اِنَّ الْحَمْدَ لِلہِ نَحْمَدُہٗ وَنَسْتَعِیْنُہٗ وَنَسْتَغْفِرُہٗ وَنَعُوْذُ بِاللہِ مِنْ شُرُوْرِ أَنْفُسِنَا وَمِنْ سَیِّئَاتِ أَعْمَالِنَا۔ وَأَشْھَدُ أَنْ لَا اِلٰہَ اِلَّااللہُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ أَمَّا بَعْدُ: فَاِنَّ خَیْرَ الْحَدِیْثِ کِتَابُ اللہِ وَخَیْرَ الْھَدْیِ ھَدْیُ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم۔ بَارَکَ اللہ لَنَا وَلَکُمْ فِی الْقُرْآنِ الْعَظِیْمِ وَنَفَعَنَا وَاِیَّاکُمْ بِالْکِتَابِ وَالْذِّکْرِ الْحَکِیْمِ اِنَّہٗ تَعَالٰی جَوَّادٌ کَرِیْمٌدوسرا خطبہ
اَلْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالْعَاقِبَۃُ لِلْمُتَّقِیْنَ۔ اَللّٰهُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ وَبَارِکْ عَلٰی سَیِّدِنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ وَّاَزْوَاجِهٖ وَذُرِّیَّتِهٖ وَصَحْبِهٖ اَجْمَعِیْن۔ قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم: خَیْرُ اُمَّتِیْ قَرْنِیْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَهُمْ۔ انَّ اللهَ یَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ وَاِیْتَآءِ ذِی الْقُرْبٰی وَیَنْهٰی عَنِ الْفَحْشَآءِ وَالْمُنْکَرِ وَالْبَغْيِ یَعِظُکُمْ لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَجو لوگ مسجد کی جماعت میں شریک نہ ہوں انہیں چاہیے کہ وہ جماعت ترک نہ کریں، بلکہ پنج وقتہ فرض نمازیں گھروں یا دفاتر میں موجود افراد کی جماعت کے ساتھ ادا کریں؛ تاکہ حتی الامکان جماعت کا اجر و ثواب حاصل ہوجائےاور جس علاقے میں کرونا وائرس کی وبا عام نہ ہو تو کرونا وائرس کے ڈر سے جماعت کی نماز ترک کردینا شرعی عذر نہیں ہے، بلکہ توہم پرستی ہے جو کہ ممنوع ہے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved