استفتاء
میرا شوہر جس سے میرا نکاح ہوا ہے ابھی تک رخصتی نہیں ہوئی، انہوں نے مجھے درج ذیل تحریر میسج کی ہے۔
“مجھ پر شادی کے لیے ماں باپ کی طرف سے زبردستی کی گئی، میں شادی نہیں کرنا چاہتا، آزاد رہنا چاہتا ہوں، مجھے بچے کبھی بھی نہیں کرنے، میں دوسروں کے بچے پال سکتا ہوں، اپنے بچے کبھی نہیں پیدا کرنا چاہتا، میں صرف انکل (Uncle) بن سکتا ہوں۔ اگر ہماری شادی ہو بھی گئی تو میں تمہیں ہر وقت اگنور کروں گا، تم زیادہ سے زیادہ چھ مہینے برداشت کر سکو گی، آخر کا ر پھٹ پڑو گی، کیوں کہ یہ انسان کی فطرت ہے۔ میں اپنے پہلے بھی دو رشتے خراب کر چکا ہوں، تمہارے ساتھ نکاح سے پہلے میں نے گھر میں بہت شور مچایا کہ میں یہ نکاح نہیں کرنا چاہتا، لیکن میری کسی نے نہ سنی، اور میرے باپ نے میرا کھانا بند کر دیا، میرا اے سی (Ac) بند کردیا اور میری گاڑی بند کر دی۔ اگر ہم نے یہ شادی کی تو ہم دونوں کی زندگیاں برباد ہو جائیں گی، لیکن ہم پھر بھی دنیا کو دکھانے کے لیے شادی کر سکتے ہیں، لیکن میں تمہارا اس طرح خیال نہیں رکھ سکوں گا جس طرح شوہر اپنی بیوی کا خیال رکھتا ہے اور شوہر ہونے کا حق ادا کرتا ہے۔ “آپ اس کی روشنی میں بتائیے کہ طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں؟ اگر نہیں ہوئی تو اب اس بنیاد پر ان سے علیحدگی اختیار کی جا سکتی ہے تو اس کا شرعی طریقہ کیا ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
آپ نے اپنے شوہر کی طرف سے بھیجی گئی جو تحریر پیش کی ہے اس میں ایسا کوئی لفظ نہیں جس سے طلاق واقع ہوتی ہو۔البتہ اس تحریر میں موصوف نے اپنے جنسی طور پر ناکارہ ہونے اور جنسی جوہر سے محروم ہونے کا اعتراف کیا ہے، اور شوہر کا بیماری، ضعف یا کسی اور وجہ سے صحبت پر قدرت نہ رکھناان عیوب میں سے ایک ایسا عیب ہے جس کی وجہ سے شریعت مطہّرہ بیوی کو شوہر سے علیحدگی اختیار کرنے کی اجازت دیتی ہے ۔
موجودہ صورت میں بہتر طریقہ یہ ہے کہ ان (آپ کے شوہر)کو اس بات پہ آمادہ کیا جائے کہ جب ہمارا شادی کے بعد نِبھا ہی نہیں ہوگا تو آپ ابھی ازخود طلاق دے کر نکاح کو ختم کر دیں، تاکہ ہم دونوں اپنی مرضی سے زندگی گزار سکیں۔ اگر وہ طلاق دے دیں تو عدت (تین ماہواری ) کے بعد آپ کو دوسری جگہ نکاح کرنے کی جازت ہو گی۔
اگر وہ طلاق دینے پر آمادہ نہیں ہوتا تو پھر آپ عدالت کے ذریعے سے علیحدگی اختیار کر لیں۔ عدالت کے ذریعے نکاح فسخ کرانے کا صحیح طریقہ اور اس سے متعلق مسائل حسب ِ ذیل ہیں ۔
فسخِ نکاح کا صحیح طریقہ :
ⅰ- آپ مسلمان قاضی کے سامنے اپنا مقدمہ پیش کریں اور خاوند کے ساتھ اپنے نکاح کو اور جس سبب کی بنیاد پر فسخ نکاح کا مقدمہ پیش کیا ہے اس کو گواہوں کے ذریعے ثابت کریں، مثلاً: خاوند نامرد ہے تو اس صورت میں فسخ نکاح کا مطالبہ کرتے وقت یوں اپنا مدّعا پیش کریں۔ ” میں اتنی مدت سے فلاں کے نکاح میں ہوں ، ابھی ہماری رخصتی نہیں ہوئی، مگر میرے خاوند نے مجھے خود آگاہ کیا ہے کہ شادی کرنے کا کوئی فائدہ نہیں کیوں کہ وہ جنسی طور پر فٹ نہیں اس وجہ سے وہ شوہر ہونے کی حیثیت سے میرے حقوق ادا نہیں کر سکے گا۔ اس کی طرف سے حقیقت معلوم ہونے کے باوجود اگر میں اس کے ساتھ رہی تو مجھے شدید ضرر لاحق ہو گا اور میری زندگی برباد ہو جائے گی ، اب میں اپنے خاوند کے نکاح میں نہیں رہنا چاہتی، لہٰذا معزز عدالت سے اپیل ہے کہ وہ مجھے اس کی زوجیت سے الگ کر دے ۔
ⅱ- آپ کے پاس اپنے مدّعا کے ثبوت کے لیے گواہ نہ ہوں یا گواہ تو ہوں مگر کسی وجہ سے پیش نہ کر سکتے ہوں تو اس صورت میں اگر خاوند عدالت میں حاضر ہو تو قاضی اس سے قسم لے ، اگر وہ قسم کھانے سے انکار کرے تو اب آپ کا دعویٰ درست سمجھا جائے گا ، اب قاضی شوہر کو اس بات کا پابند کرے کہ وہ طلاق یا خلع پر رضا مند ہو جائے، اگر خاوند ان میں سے کسی پر رضا مند ہو جائے تو عدالت اس کے مطابق فیصلہ نافذ کر دے ۔ لیکن اگر خاوند اس قدر ظالم ہو کہ کسی بھی بات پر آمادہ نہ ہو اور اپنی ہٹ دھرمی پر ڈٹا رہے تو اب عدالت کوئی مہلت دے بغیر اسی وقت نکاح فسخ کر دے۔
ⅲ- عدالت کی طرف سے بار بار نوٹس جاری کیے جانے سے باخبر ہونے کے باوجود خاوند نہ خود عدالت حاضر ہو اور نہ ہی اپنا کوئی نمائندہ بھیجے ، اس صورت میں اگر آپ کے پاس گواہ موجود ہوں تو وہ پیش کریں اور اب عدالت ان گواہوں کی شہادت کی بنیاد پر آپ کے حق میں فسخ نکاح کا فیصلہ کر دے۔اگر آپ گواہ پیش نہ کر سکیں تو بار بار طلب کیے جانے کے باوجود خاوند یا اس کے وکیل کا عدالت میں حاضر نہ ہونا خاوند کی طرف نکول یعنی قسم سے انکار سمجھاجائےگا ، اب نکول کی بنیاد پر عدالت فسخِ نکاح کا فیصلہ جاری کر دے۔
ⅳ – آپ یا عدالت میں سے کوئی ایک بھی فسخ نکاح کے لئے “خلع” کا طریقہ اختیار نہ کرے، کیوں کہ خاوند کی رضا مندی کے بغیر یک طرفہ خلع شرعاً جائز نہیں ہے۔ ہاں اگر عدالت کا فیصلہ ایسے سبب کی بنیاد پر ہو جو شرعاً معتبر ہو (جیسے خاوند کا نامرد ہونا )مگر فیصلہ کرتے وقت فسخ کے بجائے خلع کا طریقہ یا خلع کا لفظ استعمال کیا گیا ہو تو اس صورت میں خلع کے طور پر علیحدگی کا اعتبار نہ ہوگا، کیوں کہ یہ خلع یک طرفہ واقع ہوا ہے۔ البتہ حقیقت میں یہ فیصلہ چونکہ شرعی بنیاد پر ہوا ہے اس لیے شرعی بنیاد کو ملحوظ رکھتے ہوئے یہ فیصلہ شرعاً معتبر سمجھا جائے گا اور نکاح فسخ ہوجائے گا ۔
ⅴ- عدالت کا فیصلہ شرعاً معتبر ہونے کی صورت میں جس دن عدالت باقاعدہ طور پر فسخ نکاح کا فیصلہ جاری کرے گی اس تاریخ سے آپ کی عدت شروع ہو گی، عورت کی عدت تین حیض ہے، ماہ واری نہ آنے کی صورت میں تین ماہ مکمل عدت گزاریں ،عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے کی شرعاً اجازت ہوگی۔
فائدہ:
فسخِ نکاح کے لیے مسلمان قاضی کا فیصلہ کرنا ضروری ہے، اگر کافر قاضی فسخِ نکاح کا فیصلہ کرے گا تو مسلمان کے حق میں وہ فیصلہ نافذ نہ ہو گا۔ جن علاقوں میں قاضی شرعی موجود ہوں وہاں فسخِ نکاح کا معاملہ سہل ہے، قاضی صاحب فسخِ نکاح کے تمام تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے فیصلہ کرے گا تو شرعاً وہ فیصلہ معتبر ہو گا۔ اگر کسی جگہ مسلمان قاضی موجود نہ ہو تو اس صورت میں بوقتِ ضرورت فیصلہ کرنے کے طریقہ کار سے متعلق تفصیل طلب کی جا سکتی ہے۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
مرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا