- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
عرض یہ ہے کہ اگر قربانی کے جانور کے کان میں چھوٹا سا سوراخ ہو تو کیا ایسے جانور کی قربانی کرنا جائز ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
علامہ محمد امین بن عمر ابن عابدین شامی (ت1252ھ) لکھتے ہیں:
( قَوْلُهُ وَمَقْطُوعِ أَكْثَرِ الْأُذُنِ إلَخْ )… وَاخْتَلَفَ أَصْحَابُنَا فِي الْفَاصِلِ بَيْنَ الْقَلِيلِ وَالْكَثِيرِ… وَالصَّحِيحُ أَنَّهُ الثُّلُثُ ، وَمَا دُونَهُ قَلِيلٌ ، وَمَا زَادَ عَلَيْهِ كَثِيرٌ وَعَلَيْهِ الْفَتْوَى.(رد المحتار مع الدر المختار: ج6 ص323)ترجمہ: جانور کے کان کا اکثر حصہ کٹا ہوا ہو تو قربانی جائز نہیں۔اب کان کا کتنا حصہ کٹا ہوا ہو تو اسے ”تھوڑا“ یا ”زیادہ“ کہیں گے تو اس میں مشائخ حنفیہ کے اقوال مختلف ہیں۔ صحیح قول جس پر فتویٰ ہے وہ یہ ہے کہ تہائی یا اس سے کم کٹا ہوا ہو تو یہ ”تھوڑا“ ہے (جس کی قربانی جائز ہے) اور اگر تہائی سے زائد کٹا ہوا تو یہ ”زیادہ“ ہے (جس کی قربانی جائز نہیں)واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved