• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

جسد اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے ملی ہوئی مٹی کعبہ وعرش سے افضل ہے

استفتاء

حضرت متکلم اسلام مولانا محمد الیاس گھمن حفظہ اللہمیں نے آپ کا ایک کلپ سنا جس میں آپ نے فرمایا کہ ”زمین کا وہ حصہ جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے جسد اطہر کو مس کیے ہوئے ہے سب سے افضل ہے حتی کہ کعبہ اور عرش سے بھی افضل ہے ۔“سوال یہ ہے کہ یہ آپ کی ذاتی رائے ہے یا اکابرین امت کی رائے ہے؟ اگر ذاتی رائے ہے تو اس کی وضاحت مطلوب ہے اور اگر اکابرین امت کی رائے ہے تو براہِ کرم حوالہ جات پیش فرما کر شکریہ کا موقع دیں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

یہ موقف میری ذاتی رائے نہیں بلکہ یہ اکابرین امت  کا نظریہ ہے۔ اکابرین کے چند  حوالہ جات پیش خدمت ہیں:[۱]: مشہور محدث وفقیہ قاضی عیاض مالکی  (ت 544ھ) اپنی کتاب ”الشفاء“ میں لکھتے ہیں :وَلَاخِلَافَ أَنَّ مَوْضِعَ قَبْرِہٖ أَفْضَلُ بِقَاعِ الْأَرْضِ․ (کتاب الشفاء:  ص68 الفصل العاشر   آداب دخول المسجد النبوی الشریف وفضل المدینۃ ومکہ)ترجمہ: اس بات میں کوئی اختلاف نہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کی قبر مبارک کی جگہ زمین کے تمام مقامات سے افضل ہے ۔[۲]: امام ابو الفضل جلال الدین عبد الرحمن بن ابی بکر السیوطی الشافعی ( ت911ھ) نے اپنی کتاب ”الخصائص الکبریٰ“ میں باب قائم کیا ہے:بَابُ اخْتِصَاصِهٖ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَفْضِيْلِ بَلَدَيْهِ عَلٰى سَائِر الْبِلَادِ وَبِأَنَّ الدَّجَّالَ وَالطَّاعُوْنَ لَا يَدْخُلُهَا وَبِفَضْلِ مَسْجِدِهٖ عَلٰى سَائِر الْمَسَاجِدِ وَبِأَنَّ الْبُقْعَةَ الَّتِيْ دُفِنَ فِيْهَا أَفْضَلُ مِنَ الْكَعْبَةِ وَالْعَرْشِ․(الخصائص الکبریٰ للسیوطی:ج 2 ص 350 )ترجمہ : یہ باب اس بارے میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کا شہر تمام شہروں سے افضل ہے، دجال اور طاعون اس شہر میں داخل نہیں ہوں گے، مسجد نبوی تمام مساجد سے افضل ہے اور زمین کا وہ ٹکڑا جس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم  مدفون ہیں کعبہ اور عرش سے افضل ہے۔ اس باب کے تحت علامہ جلال الدین سیوطی فرماتے ہیں :قَالَ الْعُلَمَاءُ: مَحَلُّ الْخِلَافِ فِي التَّفْضِيْلِ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِيْنَةِ فِيْ غَيْرِ قَبْرِهٖ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَمَّا هُوَ فَأَفْضَلُ الْبِقَاعِ بِالْإِجْمَاعِ بَلْ وَأَفْضَلُ مِنَ الْكَعْبَةِ بَلْ ذَكَرَ ابْنُ عَقِيْلٍ الْحَنْبَلِيُّ أَنَّهٗ أَفْضَلُ مِنَ الْعَرْشِ․ترجمہ: علمائے کرام نے فرمایا: اصل اختلاف حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کی قبر مبارک  کے علاوہ مکہ یا مدینہ کے افضل ہونے کے بارے میں ہے (کہ مکہ افضل ہے یا مدینہ)  جہاں تک حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کی قبر مبارک  کا تعلق ہے تو  قبر مبارک کی جگہ تمام جگہوں سے بلکہ کعبہ سے بھی بالاتفاق افضل ہے۔علامہ  ابن عقیل حنبلی نے فرمایا کہ قبر مبارک کا حصہ عرش سے بھی افضل ہے۔[۳]: امام ابو الحسن علی بن سلطان محمد نور الدين الملا الهروی القاری (ت 1014ھ) فرماتے ہیں :وقد نقل القاضی عیاض وغیرہ الاجماع علی تفضیل ما ضم الاعضاء الشریفۃ حتی علی الکعبۃ المُنیفۃ․ (اَلمَسْلَک المُتَقَسِّط المعروف کتاب المناسک: ص505)ترجمہ: زمین کا جو حصہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جسد اطہر کے ساتھ ملا ہوا ہے قاضی عیاض وغیرہ نے اس پر اجماع نقل کیا ہے کہ یہ افضل ہے حتی کہ کعبہ سے بھی افضل ہے ۔[۴]: علامہ علاء الدین محمد بن علی بن محمد الحصکفی  الحنفی(ت1088ھ)فرماتے ہیں :وَمَكَّةُ أَفْضَلُ مِنْهَا عَلَى الرَّاجِحِ إلَّا مَا ضَمَّ أَعْضَاءَهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ فَإِنَّهُ أَفْضَلُ مُطْلَقًا حَتَّى مِنْ الْكَعْبَةِ وَالْعَرْشِ وَالْكُرْسِيِّ.(الدر المختار مع رد المحتار: ج 4 ص 62 کتاب الحج)ترجمہ: اور مکہ مدینہ سے راجح قول کے مطابق افضل ہے مگر مدینہ کا وہ حصہ جو نبی اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے اعضاء سے ملا ہوا ہے ۔ اس لیے کہ وہ مطلق افضل ہے حتی کہ کعبہ عرش اور کرسی سے بھی افضل ہے ۔[۵]: مفتی بغداد علامہ ابو الفضل شہاب الدین محمود آلوسی بغدادی ( ت1270ھ) فرماتے ہیں:اَلْبُقْعَةُ الَّتِيْ ضَمَّتْهٗ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّهَا أَفْضَلُ الْبِقَاعِ الْأَرْضِيَّةِ وَالسَّمَاوِيَّةِ حَتّٰى قِيْلَ -وبه أقول- :إِنَّهَا أَفْضَلُ مِنَ الْعَرْشِ․(تفسیر روح المعانی: سورۃ الدخان  تحت الآیۃ انا انزلناہ فی لیلۃ مبارکۃ )ترجمہ: زمین کا وہ ٹکڑا جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کے جسد اطہر سے متصل ہے زمین اور آسمان کی تمام جگہوں سے  افضل ہے حتی کہ یہاں تک بھی کہا گیا ہے کہ یہ حصہ عرش سے بھی افضل ہے اور میں بھی اسی موقف کا قائل ہوں۔[۶]: المہند علی المفند میں فخر المحدثین مولانا خلیل احمد سہانپوری ؒ (المتوفی 1346) فرماتے ہیں فَإِنَّ الْبُقْعَةَ الشَّرِيْفَةَ وَ الرُّحْبَةَ الْمُنِيْفَةَ الَّتِيْ ضَمَّ أَعْضَائَهٗ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ أَفْضَلُ مُطْلَقًا حَتّٰى مِنَ الْكَعْبَةِ وَ مِنَ الْعَرْشِ وَ الْكُرْسِيِّ ․(المہند علی المفند: ص 37 )ترجمہ: اس لیے کہ زمین کا وہ متبرک و معظم حصہ جو آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اعضاء مبارکہ کے ساتھ لگاہوا ہے علی الاطلاق کعبہ، عرش اور کرسی سے بھی افضل ہے۔المہند علی المفند وہ کتاب ہے جس پر علماء مکہ و مدینہ منورہ علمائے شام علماء مصر کے علاوہ علماء دیوبند میں سے ان حضرات کے دستخط موجود ہیں ۔1۔ شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن صاحب ؒ 2۔ حضرت مولانا مفتی عزیزالرحمن صاحب ؒ ( مفتی اعظم دارلعلوم دیوبند)3۔ حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی ؒ 4۔ حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ صاحب دہلوی ؒ5۔ حضرت مولانا مفتی محمدشفیع صاحب ؒ ( مفتی اعظم پاکستان)6۔ حضرت مولانا محمد احمد صاحب قاسمی ؒ ( متمم دارلعلوم دیوبند) [۷]: خاتم المحدثین حضرت علامہ محمد انور شاہ کشمیری (ت 1352ھ) فرماتے ہیں:وَقَالَ مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ : إِنَّ الْبُقْعَةَ الَّتِيْ فِیْھَا جَسَدُ النَّبِیِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْضَلُ مِنْ کُلِّ شَیْئٍ حَتَّی الْکُرْسِیِّ وَالْعَرْشِ․(معارف السنن للبنوری: ج 3 ص 323)ترجمہ: امام مالک بن انس رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ زمین کے جس ٹکڑے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کا جسد اطہر ہے وہ ہر چیز سے افضل ہے حتی کہ کرسی اور عرش سے بھی  افضل ہے۔         واللہ اعلم بالصوابدارالافتاء مرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved