- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
تکبیرات تشریق کی ابتداء کیسے ہوئی؟ سننے میں آیا ہے کہ جب حضرت ابرہیم علیہ السلام اپنے لختِ جگر حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کرنے لگے تھے تو فرشتوں نے“اللہ اکبراللہ اکبر” کہا، یہ سن کر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے آگے پڑھا” لاالہ الااللہ واللہ اکبر” اور جب فدیہ کے طور پر مینڈھا آیا تو حضرت اسماعیل علیہ السلام نے پڑھا “اللہ اکبر وللہ الحمد”۔ سوال یہ ہے کہ اس کا کوئی حوالہ ہے یا نہیں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
امام علامہ محمد امین بن عمر ابن عابدین الشامی رحمہ اللہ(ت:1252ھ) لکھتے ہیں:
“وأصله أن جبريل عليه السلام لما جاء بالفداء خاف العجلة على إبراهيم فقال الله أكبر الله أكبر فلما رآه إبراهيم عليه الصلاة والسلام قال لا إله إلا الله والله أكبر فلما علم إسماعيل الفداء قال الله أكبر ولله الحمدكذا ذكره الفقهاء”(حاشیہ ابن عابدین، مطلب ان الذبیح اسماعیل علیہ السلام)ترجمہ:
فقہاء کرام رحمہم اللہ نقل کیا ہے کہ تکبیرِ تشریق کی اصل یہ ہے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے (اللہ تعالیٰ کے امر سے) حضرت اسماعیل اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کرنے کی نیت سے لٹایا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت جبریل امین کو فدیہ (مینڈھا)لے کر جانے کا حکم دیا۔ حضرت جبریل علیہ السلام مینڈھا لے کر آنے لگے تو ان کو اندیشہ ہوا کہیں حضرت اسماعیل علیہ السلام کو حضرت ابراہیم علیہ السلام (میرے پہنچنے سے قبل) ذبح نہ کر لیں تو انہوں پکارا،“اللہ اکبراللہ اکبر”جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہ آواز سنی تو فرمانے لگے،” لا إله إلا الله والله أكبر” پھر جب حضرت اسماعیل علیہ السلام کو معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے میرے بدلے ایک فدیہ بھیجا ہے تو (شکرانے کے طور پر) کہنے لگے،“الله أكبر ولله الحمد”۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved