• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

تعزیت کا مسنون طریقہ کیا ہے؟

استفتاء

تعزیت کا معنی کیا ہے اور اس کا مسنون طریقہ کیا ہے؟کیا وہاں جاکر دعا کرنا ثابت ہے یا نہیں؟اگر کوئی آدمی یہ کہے کہ میں تو دعا کرنے کو لازم نہیں سمجھتا ہوں البتہ کرتا ہوں تو اس کا کیا حکم ہے؟ راہنمائی فرمائیں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

تعزیت کا معنی ہے کسی مصیبت زدہ شخص کو تسلی دینا اور اسے صبر کی تلقین کرنا۔ فوت شدہ شخص کے لواحقین کے ساتھ تعزیت کرنا مسنون عمل ہے، اس موقع پہ میت کے لواحقین کے ساتھ ہمدردی اور افسوس کا اظہارکیا جاتا ہے ، انہیں تسلی دی جاتی ہے اور میت کی مغفرت اور ترقئِ درجات کی دعا کی جاتی ہے ۔ تعزیت کے لیے کوئی مخصوص الفاظ وارد نہیں ہیں، بس میت کے حق میں دعائے خیر کی جائے اور ایسے کلمات کہے جائیں جس سے لواحقین کا غم ہلکا اور صدمہ کم ہو، ہاتھ اٹھائے بغیر تعزیت کی جائے، کبھی کبھار ہاتھ اٹھا کر دعا کر لی جائے تو حرج نہیں، لیکن ہاتھ اٹھانے کو یا کسی دعا کے الفاظ کو لازم سمجھنا درست نہیں۔فقہاء کرام رحمہم اللہ نے تعزیت کے یہ الفاظ بیان فرمائے ہیں:
“وَيُسْتَحَبُّ أَنْ يُقَالَ لِصَاحِبِ التَّعْزِيَةِ غَفَرَ اللَّهُ تَعَالَى لِمَيِّتِكَ وَتَجَاوَزَ عنه وَتَغَمَّدَهُ بِرَحْمَتِهِ وَرَزَقَكَ الصَّبْرَ على مُصِيبَتِهِ وَآجَرَكَ على مَوْتِهِ وَأَحْسَنُ ذلك تَعْزِيَةُ رسول اللَّهِ صلى اللَّهُ عليه وسلم إنَّ لِلَّهِ ما أَخَذَ وَلَهُ ما أَعْطَى وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَهُ بِأَجَلٍ مُسَمًّى”(فتاویٰ الھندیہ: ج1 ص183)ترجمہ:
مستحب یہ ہے کہ میت کے لواحقین سے ان الفاظ کے ساتھ تعزیت کی جائے، اللہ تعالیٰ آپ کے میت کی خطاؤں سے درگزر فرما کر اس کی مغفرت فرمائے ، اسے اپنی رحمت کے سائے میں جگہ دے اور اس کی موت کی وجہ سے ملنے والے صدمہ پر آپ کو صبرِ جمیل اور اجرِ جزیل عطا فرمائے۔ اور اس سلسلے میں سب سے بہترین تعزیتی کلمات وہ ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمائے ہیں کہ بے شک جو چیز اللہ تعالیٰ نے(ہم سے) لے لی وہ اسی کی ملکیت ہے اور جو کچھ اس نے عطا کر رکھا ہے وہ بھی اسی کا ہےاور اللہ تعالیٰ کے پاس ہر چیز کا ایک وقت مقرر ہے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved