• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

عید اور جمعہ کے ایک دن اکٹھے ہونے کی صورت میں دونوں کی ادائیگی کا حکم

استفتاء

عرض خدمت یہ ہے کہ اس مرتبہ رمضان المبارک اگر تیس دنوں کا ہو تو عید الفطر ؛ جمعہ کے دن ہو گی۔ بعض ماہرین فلکیات یہ پیشنگوئی کر بھی رہے ہیں کہ تیس روزے پورے ہوں گے۔ اس حوالے سے یہاں کے کچھ لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ اگر عید اور جمعہ ایک دن اکٹھے ہو جائیں تو عید کی نماز تو ادا کی جائے لیکن نماز جمعہ کی ادائیگی میں اختیار ہو گا، چاہیں تو پڑھ لیں نہ چاہیں تو نہ پڑھیں یعنی جمعہ کی نماز پڑھنا ضروری نہیں ہوتا۔حضرت والا سے گزارش ہے کہ دلائل کی روشنی میں اس مسئلہ کی وضاحت فرمائیں کہ آیا ان لوگوں کی یہ بات درست ہے یا نماز عید کی طرح نماز جمعہ کی ادائیگی بھی ضروری ہے؟اللہ تعالیٰ آپ کا سایہ امت مسلمہ پر تا دیر سلامت رکھے۔ آمین

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

صحیح موقف یہ ہے کہ اگر جمعہ کے دن عید  آ جائے تو نماز عید اور نماز جمعہ دونوں کو ادا کرنا لازم ہے۔ نماز عید کی وجہ سے نماز جمعہ کو ترک کرنا جائز نہ ہو گا۔  نماز جمعہ فرض ہے اور نماز عید واجب، ایک کو دوسرے کی وجہ سے چھوڑنا درست نہیں۔اس موقف کے چند دلائل یہ ہیں:

دلیل نمبر1:

جمعہ کی فرضیت نصِ قطعی سے ثابت ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:﴿یٰۤاَیُّہَا  الَّذِیۡنَ  اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ  فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللہِ  وَ ذَرُوا  الۡبَیۡعَ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ  لَّکُمۡ   اِنۡ  کُنۡتُمۡ  تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۹﴾﴾ سورۃ الجمعۃ: 9ترجمہ: اے ایمان والو! جب جمعہ کے دن نماز کے لیے پکارا جائے تو  اللہ کے ذکر کی طرف دوڑو اور خرید و فروخت چھوڑ دو،  یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم سمجھو۔اس آیت میں جمعہ کی فرضیت کا عموم ہے اور یہ عموم قطعی ہے اس لیے اس کا حکم عید اور غیر عید تمام دنوں کے لیے عام ہو گا۔   امام ابو عمر یوسف بن عبد اللہ بن محمد بن عبد البر القرطَبی المالکی  رحمہ اللہ (ت 463ھ) لکھتے ہیں:لِأَنَّ اللهَ يَقُوْلُ ﴿اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ ﴾  وَلَمْ يَخُصَّ يَوْمَ عِيْدٍ مِنْ غَيْرِهٖ. التمہید لابن عبد البر: ج4 ص401 تحت الحدیث: الواحد و الاربعونترجمہ: اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ” اے ایمان والو! جب جمعہ کے دن نماز کے لیے پکارا جائے تو  اللہ کے ذکر کی طرف دوڑو اور خرید و فروخت چھوڑ دو الخ“ اس میں عید کے دن کی کوئی تخصیص نہیں کی (کہ اس دن جمعہ میں اختیار ہے، پڑھو یا چھوڑ دو) اس قطعی عموم کو ختم کرنے لیے دلیل ایسی دی جائے جو اس درجہ قطعی ہو لیکن ذخیرہ احادیث میں ایسی قطعی دلیل نہیں جو اس عموم کو ختم کر سکے۔ اس لیے عید والے دن جمعہ ہو تب بھی پڑھنا فرض ہے۔دلیل نمبر2:عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْعِيدَيْنِ وَفِي الْجُمُعَةِ بِ ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلٰى﴾ وَ ﴿هَلْ أَتَاكَ حَدِيْثُ الْغَاشِيَةِ﴾ قَالَ: وَإِذَا اجْتَمَعَ الْعِيدُ وَالْجُمُعَةُ فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ يَقْرَأُ بِهِمَا أَيْضًا فِي الصَّلَاتَيْنِ. صحیح مسلم: ج1 ص351کتاب  الجمعۃ- باب ما يقرا فی صلاة الجمعۃترجمہ: حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم دونوں عیدوں  اور جمعہ میں ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلٰى﴾ اور ﴿هَلْ أَتَاكَ حَدِيْثُ الْغَاشِيَةِ﴾  پڑھتے تھے۔ جب عید اور جمعہ ایک دن میں جمع ہو جاتے توآپ صلی اللہ علیہ و سلم دونوں نمازوں میں یہی سورتیں پڑھا کرتے تھے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عید اور جمعہ جس دن اکٹھا ہو جائے تو آپ کا طریقہ دونوں نمازوں کی ادائیگی کا تھا۔دلیل نمبر3:وَاَخْرَجَ عَبْدُ الرَّزَاقِ عَنِ بْنِ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي بَعْضُ أَهْلِ الْمَدِيْنَةِ عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ مِّنْهُمْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ اجْتَمَعَ فِي زَمَانِهٖ يَوْمُ جُمُعَةٍ وَيَوْمُ فِطْرٍ أَوْ يَوْمُ جُمُعَةٍ وَأَضْحىٰ فَصَلّٰى بِالنَّاسِ الْعِيْدَ الْأَوَّلَ ثُمَّ خَطَبَ فأَذِنَ لِلْأَنْصَارِ فِي الرُّجُوْعِ إِلَى الْعَوَالِي وَتَرْكِ الْجُمُعَةِ فَلَمْ يَزَلِ الْاَمْرُ عَلٰى ذٰلِكَ بَعْدُ. مصنف عبد الرزاق: ج3 ص176 باب اجتماع العیدینترجمہ: نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانے میں جمعہ اور  عید الفطر یا جمعہ اور عید الاضحیٰ ایک ہی دن جمع ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے لوگوں کو پہلی عید پڑھائی اور خطبہ دیا ۔  پھر انصار کو اجازت دی کہ وہ بستیوں میں واپس جا سکتے ہیں اور جمعہ چھوڑ سکتے ہیں۔ اس کے بعد ہمیشہ یہی طریقہ جاری رہا۔اس حدیث میں صراحت سے بیان کیا گیا ہے کہ یہ اجازت و اختیار صرف دیہات والوں کے لیے تھا، اہلِ مدینہ کے لیے ہرگز نہ تھا ورنہ ”عوالی“  (دیہات والوں) کی تخصیص بے معنیٰ ہو جاتی۔ نیز دیہات والوں کی تخصیص اس لیے ہے کہ دیہات والوں پر جمعہ فرض نہیں ہوتا۔خلیفہ راشد حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے :لَا جُمْعَۃَ وَلَاتَشْرِیْقَ اِلَّافِیْ مِصْرٍجَامِعٍ . مصنف عبدالرزاق ؛ ج 3 ص73 رقم5189،مسند ابن الجعد : ص 438 رقم 2990ترجمہ: جمعہ اور تشریق (عیدین )مصر جامع (شہر )کے بغیر نہیں ہو سکتے۔دلیل نمبر4:عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ : اجْتَمَعَ عِيدَانِ عَلٰى عَهْدِ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَجْلِسَ مِنْ أَهْلِ الْعَالِيَةِ فَلْيَجْلِسْ فِيْ غَيْرِ حَرَجٍ.کتاب الام: ج1ص428ترجمہ: حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں دو عیدیں اکٹھی ہو گئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اہل عوالی میں سے جو (نماز جمعہ کے لیے) بیٹھنا چاہے وہ بغیر کسی حرج اور تنگی کے بیٹھ جائے ۔یہاں بھی ”اہل العالیۃ“ (دیہات والوں) کی قید ہے  کہ ان کو رخصت ہے۔ شہر والوں کے لیے جمعہ چھوڑنے کا حکم ہرگز نہیں۔دلیل نمبر5:أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ إِذَا اجْتَمَعَا فِيْ يَوْمٍ وَاحِدٍ صَلّٰى فِي أَوَّلِ النَّهَارِ الْعِيْدِ وَصَلّٰى فِي آخِرِ النَّهَارِ الْجُمُعَةِ. مصنف عبد الرزاق : ج3 ص177 باب اجتماع العیدین رقم الحدیث5750ترجمہ: جس دن عید اور جمعہ ایک ہی دن جمع ہو جاتے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ دن کے اول حصہ میں عید اور دوسرے حصہ میں جمعہ پڑھتے تھے۔حضرت علی رضی اللہ عنہ خلیفہ راشد ہیں۔ عید اور جمعہ ایک دن جمع ہونے کے باوجود ہر نماز کو اس کے وقت میں ادا فرما رہے ہیں اور یہ ادائیگی بے شمار صحابہ رضی اللہ عنہم  و تابعین رحمہم اللہ کی موجودگی میں تھی۔ یہ دلیل ہے کہ ایک کی وجہ سے دوسرے کو ترک نہیں کیا جا سکتا بلکہ دونوں کی ادائیگی اپنے اپنے وقت میں کرنا ضروری ہے۔دلیل نمبر6:عَنْ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : اجْتَمَعَ عِيدَانِ عَلٰى عَهْدِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَشَهِدَ بِهِمَ الْعِيدَ  ثُمَّ قَالَ : إِنَّا مُجَمِّعُونَ ، فَمَنْ أَرَاْدَ أَنْ يَشْهَدَ فَلْيَشْهَدْ. مصنف ابن ابی شیبۃ: ج2 ص92 باب فی العیدین یجتمعان یجزئ احدہما من الاخرترجمہ: حضرت علی رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ایک مرتبہ دن میں دو عیدیں جمع ہو گئیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو نماز عید پڑھائی اور فرمایا  کہ ہم تو جمعہ ضرور ادا کریں گے تو جس کا ارادہ ہو کہ جمعہ میں حاضر ہو وہ ضرور حاضر ہو جائے۔اس میں ”اِنَّا مُجَمِّعُوْنَ“میں ”اِنَّا“ ضمیر جمع متکلم کے لیے ہے جو حضرت علی رضی اللہ عنہ سمیت   تمام شہریوں  کو شامل ہے۔ یہاں  تاکید کے ساتھ فرمانا کہ”ہم تو جمعہ ضرور ادا کریں گے“ دلیل ہے کہ اہلِ مدینہ (جو شہری لوگ ہیں) پر تو جمعہ پڑھنا فرض ہے اور دیہاتی لوگوں پر فرض نہیں۔ اس لیے ان کے متعلق فرمایا: ”فَمَنْ اَرَادَ أَنْ یَشْہَدَ  فَلْیَشْہَدْ“ (جس کا ارادہ ہو کہ جمعہ میں حاضر ہو وہ ضرور حاضر ہو جائے)  چنانچہعلامہ بدر الدین  محمود بن احمد بن موسیٰ العینی  (ت 855ھ) فرماتے ہیں:قَوْلُہٗ وَ اِنَّا مُجَمِّعُوْنَ: دَلِیْلٌ عَلٰی اَنَّ تَرْکَھَا لَا یَجُوْزُ. البنایۃ فی شرح الہدایۃ ج3 ص114 باب صلاۃ العیدینترجمہ: حدیث کے الفاظ  ”اِنَّا مُجَمِّعُوْنَ“ (کہ ہم تو جمعہ کی نماز ضرور ادا کریں گے) یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جمعہ کا ترک جائز نہیں۔ حاصل یہ ہے کہ عید اور جمعہ اکٹھے ہو جائیں تو عید کی وجہ سے جمعہ کی نماز ساقط نہ ہو گی، بلکہ جمعہ کی نماز کی ادائیگی بھی ضروری ہو گی۔فقہائے امت کی تصریحات:

1: امام اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت رحمہ اللہ (ت150ھ) فرماتے ہیں:عِيْدَانِ اجْتَمَعَا فِيْ يَومٍ وَاحِدٍ فَالْاَوَّلُ سُنَّةٌ وَالْآخَرُ فَرِيْضَةٌ وَلَا يُتْركُ وَاحِدٌ مِنْهُمَا. الجامع الصغیر: ص113 باب فی العیدین و الصلوٰۃ بعرفاتترجمہ: جب دو عیدیں (عید اور جمعہ) ایک دن اکٹھی ہو جائیں تو اول سنت ہے ( یعنی  ثابت بالسنت ہے)  اور دوسری  فرض ہے اور ان دونوں میں سے کسی  کو بھی نہ چھوڑا جائے۔نوٹ: ”عید سنت ہے“ کا مطلب بیان کرتے ہوئے علامہ فخرالدین  فخرالدین ابومحمد عثمان بن علی الزیلعی الحنفی    (ت743ھ) لکھتے ہیں:لِأَنَّ مُرَادَهُ ثَبَتَ وُجُوبُهُ بِالسُّنَّةِ وَلِهٰذَا قَالَ وَلَا يُتْرَكُ وَاحِدٌ مِنْهُمَا.تبیین الحقائق: ج1 ص538 باب صلاۃ العیدینترجمہ: امام محمد رحمہ اللہ  کی  مراد یہ ہے کہ نمازِ عید کا وجوب سنت سے ثابت ہے، اس کی دلیل امام محمد رحمۃ اللہ علیہ کا اگلا قول ہے:  ”وَلَا يُتْرَكُ وَاحِدٌ مِنْهُمَا“ کہ ان دونوں میں سے کسی  کو بھی نہ چھوڑا جائے۔2: امام محمد بن ادریس شافعی رحمہ اللہ (ت204ھ)فرماتے ہیں:وَلَا يَجُوزُ هٰذَا لِأَحَدٍ مِنْ أَهْلِ الْمِصْرِ أَنْ يَدَعُوْا أَنْ يُّجَمِّعُوْا إلَّا مِنْ عُذْرٍ يَجُوزُ لَهُمْ بِهٖ تَرْكُ الْجُمُعَةِ وَإِنْ كَانَ يَوْمَ عِيْدٍ. . . . وَهٰكَذَا إنْ كَانَ يَوْمَ الْأَضْحٰى لَا يَخْتَلِفُ،  إذَا كَانَ بِبَلَدٍ يُجَمَّعُ فِيْهِ الْجُمُعَةُ ويُصَلَّى الْعِيْدُ وَلَا يُصَلِّى أَهْلُ مِنٰى صَلَاةَ الْأَضْحٰى وَلَا الْجُمُعَةَ لِأَنَّهَا لَيْسَتْ بِمِصْرٍ. کتاب الام: ج1 ص428 کتاب صلاۃ العیدین- باب اجتماع العیدینترجمہ:  کسی شہری کے لیے یہ جائز نہیں کہ بغیر کسی عذر شدید کے جمعہ ترک کرے اگرچہ عید کا دن ہی کیوں نہ ہو۔   اور بغیر اختلاف کے عید الاضحیٰ کا یہی حکم ہے جب آدمی  ایسے شہر میں ہو جہاں جمعہ اور عید کی نماز پڑھی جاتی ہے۔ اہل منیٰ عید الاضحیٰ  اور جمعہ کی نماز نہ پڑھیں کیونکہ منیٰ مصر (شہر) نہیں ہے۔3: امام ابو عمر یوسف بن عبد اللہ ابن عبد البر القرطَبی المالکی  (ت463ھ) فرماتے ہیں:وَأَمَّا الْقَوْلُ الْأَوَّلُ اَنَّ الْجُمُعَةَ تَسْقُطُ بِالْعِيْدِ وَلَا تُصَلِّى ظُهْراً وَلَا جُمُعَةً فَقَوْلٌ بَيِّنُ الْفَسَادِ وَظَاهِرُ الْخَطَأ مَتْرُوْكٌ مَهْجُورٌ لَا يُعْرَجُ عَلَيْهِ. التمہید لابن عبد البر: ج4 ص401 تحت الحدیث: الواحد و الاربعونترجمہ: پہلا قول کہ ”عید کی وجہ سے جمعہ ساقط ہو جاتا ہے، اس کے بعد آپ نے ظہر پڑھیں نہ جمعہ“  تو یہ قول بالکل فاسد  ہے، اس کا غلط ہونا ظاہر ہے، یہ قول متروک ہے، لائق اعتماد نہیں۔4: علامہ ابو محمد عبد اللہ بن احمد ابن قدامہ الحنبلی (ت620ھ) لکھتے ہیں:وَقَالَ أَكْثَرُ الْفُقَهَاءِ تَجِبُ الْجُمْعَةُ لِعُمُوْمِ الْآيَةِ وَالْأَخْبَارِ الدَّالَّةِ عَلٰى وُجُوْبِهَا وَلِأَنَّهُمَا صَلَاتَانِ وَاجِبَتَانِ فَلَمْ تَسْقُطْ إِحْدَاهُمَا بِالْأُخْرٰى كَالظُّهْرِ مَعَ الْعِيْدِ. المغنی لابن قدامۃ: ج 3ص84-مسألۃ وفصل : اتفاق الجمعۃ والعید فی یوم واحدترجمہ: اکثر فقہاء فرماتے ہیں کہ (عید کے دن جمعہ آ ج آ جائے تو) جمعہ ادا کرنا بھی واجب ہے اس لیے کہ آیت قرآنی کے عموم اور احادیث مبارکہ سے جمعہ کا وجوب ثابت ہوتا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہ دونوں نمازیں واجب ہیں ، لہذا ایک کی وجہ سے دوسری کو نہیں چھوڑا جائے گا۔تنبیہ: بعض حضرات نے  امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کی طرف سقوطِ جمعہ کی نسبت کی ہے لیکن شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی (ت1402ھ) فرماتے ہیں کہ مجھے یہ قول ان کی کتب میں نہیں ملا۔   آپ رحمہ اللہ کے الفاظ یہ ہیں:اِنِّی لَمْ اَجِدْہُ فِی فُرُوْعِہِمْ مِنَ الرَّوْضِ وَ غَیْرِہٖ. اوجز ا لمسالک: ج 3ص 428  باب الامر بالصلاۃ قبل  الخطبۃ فی العیدینترجمہ: مجھے یہ قول فقہ حنبلی کی فروعات  (پر مشتمل کتابوں) مثلاً روض وغیرہ میں نہیں ملا۔تنبیہ:اس موقف کے مزید دلائل بندہ کی فائل  ”عیداور جمعہ ایک دن اکٹھے  ہوں  تودونوں پڑھنا ضروری ہے“ میں ملاحظہ کیے جا سکتے ہیں۔ بعض لوگ جو عید کے دن جمعہ ہونے کی صورت میں جمعہ کی فرضیت کے قائل نہیں ان کے پیش کردہ دلائل کا جواب بھی بندہ نے اس فائل میں تحریر کر دیا ہے۔ فائل اس فتویٰ کے ساتھ ارسال ہے۔مزید تفصیل اس میں ملاحظہ فرما لیں۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاء مرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved