• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

صرف یوم عاشوراء کا روزہ رکھنا کیسا ہے؟

استفتاء

عاشورہ کے دن روزہ رکھنے سے متعلق ایک عالم صاحب نے کہا کہ اب عاشورہ کے ساتھ دوسرا روزہ نہ ملانا مکروہ تنزیہی نہیں ہے کیوں کہ اب یہود اس دن روزہ نہیں رکھتے، لہٰذا اب جب علت نہیں رہی تو حکم بھی نہیں رہے گا۔ارتفاعِ علتِ تشابہ کے لیے بطور حوالہ مولانا منظور احمد نعمانی رحمہ اللہ کی کتاب “معارف الحدیث ، کتاب الصوم” کو پیش کیا جاتا ھے۔جس میں حضرت رحمہ اللہ تحریر فرماتے ہیں کہ :
” یہ عاجز عرض کرتا ہے کہ ہمارے زمانہ میں چونکہ یہود و نصاریٰ وغیرہ یوم عاشورہ (دسویں محرم) کو روزہ نہیں رکھتے، بلکہ ان کا کوئی کام بھی قمری مہینوں کے حساب سے نہیں ہوتا، اس لیے اب کسی اشتراک اور تشابہ کا سوال ہی نہیں رہا، لہٰذا فی زمانہ ارفع تشابہ کے لیے نویں یا گیارہویں کا روزہ رکھنے کی ضرورت نہ ہونی چاہیے۔ واللہ اعلم۔”نیز شاہ صاحب رحمہ اللہ نے بھی عرف الشذی میں یہ عبارت نقل کی ھے :
“وحاصل الشريعة: أن الأفضل صوم عاشوراء وصوم يوم قبله وبعده، ثم الأدون منه صوم عاشوراء مع صوم يوم قبله أو بعده، ثم الأدون صوم يوم عاشوراء فقط. والثلاثة عبادات عظمى، وأما ما في الدر المختار من كراهة صوم عاشوراء منفرداً تنزيهاً، فلا بد من التأويل فيه أي أنها عبادة مفضولة من القسمين الباقيين، ولا يحكم بكراهة؛ فإنه عليه الصلاة والسلام صام مدة عمره صوم عاشوراء منفرداً، وتمنى أن لو بقي إلى المستقبل صام يوماً معه”.فقط واللہ اعلم)(العرف الشذي شرح سنن الترمذي (2/ 177)
برائے مہربانی اس مسئلہ کے بارے میں آپ اپنی رائے سے فیض یاب فرمائیں تا کہ ہمارے لیے عمل کرنا آسان ہو جائے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

ہماری تحقیق کے مطابق موجودہ دور میں یہود یومِ عاشورہ کو روزہ نہیں رکھتے، اب یومِ عاشورہ کو روزہ رکھنا مسلمانوں کے ساتھ خاص ہے، اس لیے اگر کوئی بندہ صرف یوم عاشورہ کو روزہ رکھ لے تو اسے یہود سے مشابہت قرار نہیں دیں گے۔ تاہم بہتر صورت بہرحال یہی ہے کہ یومِ عاشوراء کے ساتھ نو یا گیارہ محرم کا روزہ بھی رکھا جائے۔اس حوالے سے سوال نامہ میں آپ نے دو عبارات نقل کر دی ہیں، مزید یہ کہ دارالعلوم دیوبند کا فتویٰ بھی یہی ہے جو دارالعلوم دیوبند کی ویب سائٹ پہ بھی موجود ہے، ذیل میں تائیداً درج کیا جاتا ہے:
صرف دسویں محرم کا روزہ رکھنے کا حکمسوال: صرف اکیلا دسویں محرم کا روزہ رکھنا مکروہ ہوتا ہے آج کے زمانہ میں بھی ؟ جزاکم اللہ خیرا ً۔جواب نمبر: 165775بسم الله الرحمن الرحيمآج کل صرف دسویں محرم کا روزہ مکروہ تو نہیں ہے؛ البتہ دسویں کے ساتھ نویں یا گیارہویں کا بھی رکھ لینا بہتر ہے ۔واللہ تعالیٰ اعلمدارالافتاء دارالعلوم دیوبندFatwa:83-51/N=2/1440واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved