• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

حج اور عمرہ ایک ہی احرام سے کرنا کیسا ہے؟

استفتاء

کیا حج اور عمرہ ایک ہی نیت اور ایک ہی احرام سے کیا جا سکتا ہے؟ نیز حج کی کتنی اقسام ہیں اور کون کون سی ہیں؟ وضاحت فرمائیں ۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

حج کی تین قسمیں ہیں جو ذیل میں درج کی جاتی ہیں۔1: حج اِفرادمیقات سے گزرتے وقت صرف حج کا احرام باندھا جائے اور 10 ذوالحجہ کو رمی کرنے کے بعد احرام کھول دیا جائے۔ ایسا حج کرنے والے کو ”مُفرِد“ کہتے ہیں۔ اس میں قربانی واجب نہیں بلکہ مستحب ہے۔2: حج قِرانمیقات سے حج اور عمرہ دونوں کا احرام اکٹھا باندھا جائے۔ پہلے عمرہ کے افعال اداکیے جائیں لیکن حلق یا قصر نہ کروایا جائے بلکہ بہ دستور اسی احرام میں رہا جائے۔ پھر حج کے دنوں میں اسی احرام کے ساتھ حج کے ار کان ادا کیے جائیں اور 10 ذوالحجہ کو رمی،قربانی اور حلق کرنے کے بعد عمرہ و حج دونوں کا احرام کھول دیا جائے۔ امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک ”حج قِران“افضل ہے۔ ایسا حج کرنے والے کو ”قارِن“ کہتے ہیں اور اس میں قربانی واجب ہے۔3: حج تمتعمیقات سے عمرہ کا احرام باندھا جائے اور عمرہ کے افعال ادا کرنے کے بعد احرام کھول دیا جائے۔پھر 8 ذوالحجہ کو حج کا احرام باندھا جائے اور 10 ذوالحجہ کورمی، قربانی اور حلق کرنے کے بعد احرام کھول دیاجائے۔ ایسا حج کرنے والے کو ”متمتع“ کہتے ہیں اور اس میں بھی قربانی واجب ہے۔فائدہ: ہمارے نزدیک حجِ قِران افضل ہے،اس میں ایک ہی سفر میں ایک ہی احرام کے ساتھ حج اور عمرہ دونوں کی سعادت نصیب ہو جاتی ہے۔ اس میں نیت یوں کی جائے۔ ”اے اللہ! میں تیری رضا کےلیے حج اور عمرہ کرتا ہوں، ان کو میرے لیے آسان فرما اور انہیں اپنی بارگاہ میں قبول فرما!“نوٹ: مزید تفصیل کے لیے بندہ کی کتاب “حج و عمرہ” کا مطالعہ فرمائیں۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved