• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

کیا حضرت ابن عمر نے کہا کہ میں طلاق کے معاملہ میں حضرت عمر کا فیصلہ نہیں مانتا؟

استفتاء

ایک غیر مقلد نے تین طلاق کے حوالے سے مجھے کہا کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی الله عنہما نے اپنے والد حضرت عمر رضی الله عنہ کے بارے میں کہا تھا کہ میں ان کے تین طلاق کو تین شمار کرنے کا فیصلہ نہیں مانتا، میں نے ان کا کلمہ نہیں پڑھا!کیا کوئی ایسی بات حضرت عبد اللہ بن عمر رضی الله عنہما سے ثابت ہے؟ اگر ہے تو اس کا صحیح جواب کیا ہو گا؟ جزاک اللہ خیراً

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

ایسی کوئی روایت حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ثابت نہیں۔ آپ ان صاحب سے کہیں کہ  سندِ صحیح کے ساتھ اس بات کا ثبوت پیش کرے!  واضح رہے کہ عام انسان پر بہتان باندھنا گناہِ کبیرہ ہے چہ جائیکہ کسی جلیل القدر صحابی کے بارے میں ایسی بات کی جائے۔
[۲]: حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما  سے مروی ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو ایام حیض میں ایک طلاق دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمانے پر رجوع کر لیا۔ پھر فرماتے ہیں کہ میں نے  آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا:
یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ! رَأیْتَ لَوْاَنِّیْ طَلَّقْتُھَاثَلَاثًا کَانَ یَحِلُّ لِیْ أنْ اُرَاجِعَھَا؟قَالَ لَاکَانَتْ تَبِیْنُ مِنْکَ وَتَکُوْنُ مَعْصِیَۃً. 
ترجمہ: یا رسول اللہ ! یہ بتائیں کہ اگر میں اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیتا تو کیا اس سے رجوع کرنا میرے لیے حلال ہوتا؟ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:”نہیں! وہ تجھ سے جدا ہو جاتی اور یہ (کام کرنا) گناہ ہوتا۔“
علامہ شمس الدین ابو عبد لله محمد بن احمد بن عثمان ذہبی (ج748ھ) لکھتے ہیں:
وهٰذا إسناد قوي.
ترجمہ: اس حدیث کی اسناد قوی اور  مضبوط ہے۔
اس حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کا یہ فرمانا کہ ”وہ تجھ سے جدا ہو جاتی اور یہ (کام کرنا) گناہ ہوتا“اس بات کی دلیل ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا مقصد  اکٹھی تین  طلاقوں کا حکم  پوچھنا تھا کیونکہ معصیت اور گناہ یہی ہے، متفرق طہروں میں دی جانے والی تین طلاقیں معصیت اور گناہ نہیں ہوتیں۔ اس حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کا واضح فیصلہ موجود ہے کہ اکٹھی تین طلاقیں دینا گو کہ معصیت ہیں لیکن اس کے باوجود واقع ہو جاتی ہیں۔
تو حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اکٹھی دی جانے والی تین طلاقوں کا تین واقع ہونا نقل کرتے ہیں،  اس لئے ان کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ تین طلاق کو تین ماننے کے خلاف تھے قابلِ تعجب بات ہے۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء 
مرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved