- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
آج تراویح میں ایک مسئلہ ہوا جس کے بارے میں آپ کی رہنمائی درکار ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ تراویح کی نماز میں امام صاحب دوسری رکعت میں قعدہ کرنا بیٹھنا بھول گیا اور پھر چار رکعت پڑھ لی۔ تو کیا اس صورت میں سجدہ سہو کرنا لازمی ہے یا نہیں؟ امام صاحب نے اس صورت میں سجدہ سہو نہیں کیا۔ اب ہماری تراویح اور اس میں پڑھے ہوئے قرآن کا کیا حکم ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
امام صاحب نے چونکہ دو رکعت پر قعدہ نہیں کیا اس لئے پہلی دو رکعتیں تو فاسد ہو گئی ہیں۔ ان دو رکعتوں کا اعادہ آج کی رات ہی صبح صادق سے پہلے پہلے کر لینا چاہیے۔ یہ اعادہ باجماعت کر لیا جائے اور جو قرآن ان دو رکعتوں میں پڑھا گیا ہے اسے بھی دوہرا لیا جائے تاکہ مقتدیوں کے ختم قرآن میں کوئی کمی نہ رہے۔ اگر پڑھا ہوا قرآن دوہرانا ممکن نہ ہو تو دو رکعات باجماعت یا انفراداً تراویح کی نیت سے پڑھ لی جائے اور قرآن کل تراویح دوہرا لیا جائے۔دوسری دو رکعتوں میں تفصیل ہے کہ اگر سجدہ سہو کر لیا جاتا تو دوسری دو رکعتیں درست شمار ہوتیں۔ سجدہ سہو نہ کرنے کی وجہ سے آج ہی طلوعِ فجر سے پہلے پہلے ان کا اعادہ لازم ہے۔ اس صورت میں پڑھا ہوا قرآن دوہرانے کی ضرورت نہیں۔ اگر طلوعِ فجر سے پہلے پہلے ان کا اعادہ نہ کیا گیا تو یہ دو رکعتیں ناقص ہو کر ذمہ سے ساقط ہو گئی ہیں البتہ اس صورت میں ان رکعتوں میں بھی پڑھے ہوئے قرآن کا اعادہ نہیں ہو گا۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved