• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم افضل ہیں تو تقلید امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی کیوں؟

استفتاء

ایک سوال کا جواب مطلوب ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات افضل ہے یا امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی؟ اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات افضل تو پھر تقلید امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی کیوں کی جاتی ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

ہمارا ایمان ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی اللہ تعالیٰ کے بعد کائنات میں افضل ترین ہستی ہیں۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تقابل امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے کرنا خود قابلِ تعجب ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بجائے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی تقلید کیے جانے پر اشکال ہونا ”تقلید“ کا مفہوم نہ سمجھنے کا نتیجہ ہے۔ تقلید کا مفہوم اور دائرہ کار سمجھ لیا جائے تو یہ اشکال باقی نہیں رہتا۔ واضح رہے کہ مجتہد کی تقلید پانچ قسم کے مسائل میں ہوتی ہے:
1: مسائل غیر منصوصہ (جن کا حکم منقول نہ ہو)2: مسائل منصوصہ متعارضہ (حکم منقول ہو لیکن باہم تعارض ہو)3: مسائل منصوصہ مجملہ (حکم منقول ہو لیکن اس کی تفصیل نہ ہو)4: مسائل منصوصہ محتملۃ المعانی (حکم تومنقول ہو لیکن اس میں کئی معانی کا احتمال ہو)5: مسائل منصوصہ غیر متعینۃ الاحکام (حکم منقول ہو لیکن اس کی حیثیت معلوم نہ ہو) تو مجتہد کی تقلید ہوتی ہی انہی مسائل میں ہے جن میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کوئی صریح نص اور حکم منقول نہ ہو۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ان مسائل میں کوئی واضح حکم موجود ہوتا تو تقلید کی ضرورت ہی نہ تھی۔ مجتہد کی تقلید کرنے سے دراصل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی تعمیل ہوتی ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی:يا رسول الله! إن نزل بنا أمر ليس فيه بيان أمر ولا نهي فما تأمرنا قال تشاورون الفقهاء.ترجمہ: یا رسول اللہ! اگر ہمیں کوئی ایسا مسئلہ پیش آ جائے جس میں (شریعت کا کوئی واضح) حکم یا منع منقول نہ ہو تو آپ اس بارے میں کیا فرماتے ہیں (کہ ہم ایسے وقت میں کیا کریں)؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس وقت فقہاء سے مشورہ کر لینا۔اس روایت میں صراحت ہے کہ کئی مسائل ایسے آئیں گے جن میں شریعت کی کوئی واضح نص نہ ہو گی تو ان مسائل میں فقہاء کی بات ماننے کا حکم خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرما رہے ہیں۔ اسی کا نام مجتہد کی تقلید ہے۔ اگر اس بنیاد پر امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی تقلید پر اشکال کیا جا رہا ہے تو پھر یہ اشکال دین کے ہر شعبہ پر اٹھے گا۔ مثلاً….• کوئی یہ کہے گا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم افضل ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر سات قاریوں کی قرأت پر قرآن کی تلاوت کیوں کی جاتی ہے؟• کوئی یہ کہے گا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم افضل ہیں تو احادیث کی صحت و ضعف اور قبول وعدم قبول میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر محدثین کی بات کیوں مانی جاتی ہے؟• کوئی یہ کہے گا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم افضل ہیں تو قرآن کی تفسیر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر مفسرین کی بات کیوں لی جاتی ہے؟اس لیے اگر امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی تقلید کی وجہ سمجھ لی جائے تو دین کے ان شعبہ جات سے یہ اشکال ختم ہو جائے گا کہ ان قراء، مفسرین اور محدثین کی مان اس لیے مانی جاتی ہے کہ سات قرأتیں یکجا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جمع نہیں فرمائی بلکہ متفرق طور پر امت کو دی ہیں۔ ان سات قراء نے ان متفرق قرأتوں کو جمع کیا ہے اس لیے ان کی قرأت پر تلاوت کی جاتی ہے۔ قرآن کریم کی کئی آیات کی تفسیر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے صراحتاً منقول نہیں اس لیے مفسرین کے اقوال لیے جاتے ہیں۔ اسی طرح احادیث کی صحت وضعف کے قواعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمع کر کے امت کو نہیں دیے بلکہ بعد میں جب احادیث کی روایت کا سلسلہ چلا تو راویوں کے قابلِ اعتماد اور ناقابلِ اعتماد ہونے کے اعتبار سے امت کو صحیح و ضعیف احدیث کی پہچان کی ضرورت محسوس ہوئی اس لیے انہوں نے محدثین کے اقوال لیے جاتے ہیں۔ اسی طرح یہ بھی سمجھ لیا جائے کہ کئی مسائل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا واضح فیصلہ یا کوئی واضح حکم منقول نہیں اس لیے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور دیگر فقہاء کرام کی تقلید کی جاتی ہے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved