• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

رشتہ کے معاملے میں والدین کی رائے کو ترجیح دی جائے

استفتاء

حضرت استاذ جی! درج ذیل مسئلہ کی وضاحت فرما دیں ۔ نوازش ہو گی ۔ ہمارے ایک ساتھی نے یہ استفتاء ارسال کیاہے کہ اس کو حضرت متکلمِ اسلام حفظہ اللہ کی خدمت میں پیش کر دیں (جوکہ خود دارالعلوم دیوبند میں دار الافتاء میں ہیں) آپ کی راہنمائی چاہتے ہیںزید کا خالدہ سے رشتہ آیا تھا کچھ دنوں پہلے۔ زید کے گھر میں سبھی افراد راضی تھے سوائے زید کے بھائی اور بھابھی کے۔زید کے والد صاحب اولا تو راضی تھے ؛لیکن کچھ وجوہات کی وجہ سے والد صاحب بھی تذبذب کا شکار ہوگئے۔پھر زید نے تین مرتبہ استخارہ کیا کہ کیا یہ رشتہ مناسب رہے گا یا نہیں۔زید کے ہر استخارے میں ہاں کا اشارہ ملا ہے مگر والد صاحب ابھی تک مصر ہیں کہ وہاں نہیں کرنا یا کہہ دیتے ہیں کہ شادی کرے گا تو میں شرکت نہیں کروں گا۔البتہ شادی کے لیے تمام پیسے دے دوں گا۔یا میں نے اتنے ارمان دیکھے تھے اس کے لیے اور اس نے میرا دل دکھایا ہے وغیرہ وغیرہ۔اسی طرح جب زید نے اپنے بھائی کو راضی کرنے کے لیے کوشش کی اور استخارے کی بابت انہیں بتایا تو وہ فورا بولے تیرا استخارہ تو عجیب ہے۔جو چاہتا ہے وہی آجاتا ہے۔کیا اس طرح کے جملے استخارے کی بابت کہنا یا کسی بھی ایسی چیز کے متعلق جس میں نص وارد ہوئی ہو۔کیا حکم رکھتا ہے؟زید اپنے والد صاحب سے مستقل درخواست کر رہا ہے کہ ابو جی! آپ راضی ہوجائیں۔میں آپ کی مرضی چاہتا ہوں۔زید بار بار یہی سمجھانے کی کوشش کر رہا ہے کہ استخارے کے بعد میری خالدہ سے نکاح کی مرضی ہوگئی ہے اور میں بہت خوش ہوں۔مگر والد صاحب ایسی وجوہات کو وجہ بناکر منع کردیتے ہیں جو معقول نہیں ہیں۔اور اگر زید کے والد یا زید کے بڑے بھائی اور بھابھی کی نظر میں معقول ہیں تو زید ان کو جواب از روئے شرع جواب بھی دیتا ہے۔جس پر وہ خاموش ہوجاتے ہیں۔حتی کہ زید کے والد کہتے ہیں کہ میرے پاس اس کی باتوں کا جواب نہیں ہوتاکیوں کہ وہ عالم دین ہے اور مفتی بھی۔زید بہت زیادہ پریشان ہے۔اور اس کے تمام اہلِ خانہ بھی۔زید آیاتِ قرآنی اور احادیث کو سامنے رکھ کر کہتا ہے کہ میں نے والد صاحب کی مرضی معلوم ہونے کے بعد استخارہ کیا تھا اور تمام اہلِ خانہ بھی راضی تھے۔پھر جب استخارے میں اشارہ مل چکا ہے تو ضد بنا کر منع کرنا یہ کہاں سے درست ہے؟جب کہ شریعت نے ”فانکحوا ما طاب لکم“ بھی فرمایا ہے۔اسی طرح ایک صحابی سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ جس سے تمہارا نکاح ہونے والا ہے تم نے اس کو دیکھا ہے۔اسے ایک نظر دیکھنا چاہیے تھا۔اسی طرح ایک صحابی سے فرمایا کہ تمہیں باکرہ سے نکاح کرنا چاہیے تھا وہ زیادہ موزوں رہتی تاکہ تم اس سے دل لگی کرتے۔وغیرہزید اس رشتے کے حوالے سے بہت خوش ہے اور تین مرتبہ کے استخارے میں اسے ہاں کا ہی اشارہ ملا ہے۔از راہ کرم شریعت کی روشنی میں جواب مرحمت فرمائیں کہ والد صاحب یا بھائی اور بھابھی کا ضد کی وجہ سے منع کرنا درست ہے؟زید، زید کی تمام بہنیں زید کے ماموں اور ممانی حتی کہ خالہ اور خالو بھی راضی ہیں اس رشتے حوالے سے۔اب آپ سے درخواست ہے کہ شریعت اس سلسلے میں زید کو کیا حکم دیتی ہے اور اس کے والد یا بھائی اور بھابھی کو کیا حکم دیتی ہے جو مصر ہیں کہ وہاں زید کی شادی نہیں کرنی؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

آپ کا تفصیلی سوال پڑھا ہے۔ اس حوالے سے ہماری رائے کا خلاصہ یہ ہے کہ1: استخارہ منصوص عمل ہے لیکن استخارہ کے نتیجہ میں حاصل ہونے والا اشارہ منصوص نہیں بلکہ استخارہ کرنے والا شخص اپنی رائے سے اس کا محمل متعین کرتا ہے۔ زید نے تین مرتبہ استخارہ کیا تو اسے جو ”ہاں“ کا اشارہ ملا یہ اشارہ محض اس کی رائے ہے، نص نہیں۔ اس لیے اولاً تو یہ سمجھ لیا جائے کہ والد صاحب، بھائی صاحب اور بھابھی صاحبہ کسی منصوص کے مخالف نہیں ہو رہے!2: ثانیاً … والدین کا تجربہ، اولاد سے محبت، اولاد کے مستقبل کی فکر بلاشبہ یہ چیزیں اولاد کی سوچ سے بڑھ کر ہوتی ہے۔ والدین کبھی نہیں چاہتے کہ اولاد کا رشتہ ایسی جگہ کریں جو نامناسب ہو بلکہ وہ اپنے تجربات کی بنا پر مناسب اور اچھے رشتہ ہی کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس لئے ہماری رائے میں زید کو چاہیے کہ والد صاحب کے فیصلہ ہی کو ترجیح دے خصوصاً جب کہ زید خود عالم اور مفتی بھی ہے تو اسے والد صاحب کی رائے کی ترجیح کا اہتمام دوسروں سے زیادہ کرنا چاہیے۔ عام مشاہدہ یہی ہے کہ والدین کی رضامندی کے بغیر بلکہ ان کی رائے کے مخالف اگر کوئی رشتہ کیا جائے تو اس میں خیر و برکت نہیں ہوتی۔ اس لیے اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے والد صاحب کی رائے کو مانیں اور اسی جگہ رشتہ کریں جہاں والد صاحب چاہتے ہوں۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved