- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
سوال یہ ہے ایک بندہ اپنے بھانجے کو میسج کر کے کہتا ہے: ”میں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ہے۔“ تو کیا اس سے طلاق واقع ہوجائے گی یا نہیں؟ اگر واقع ہو جائے گی تو ایک واقع ہو گی یا تین؟ کیونکہ میسج میں وہ ایک ہی دفعہ کا کَہ رہا ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
اس صورت میں اس شخص کی بیوی کو ایک طلاق واقع ہو جائے گی۔ عدت کے اندر اندر رجوع کر سکتا ہے۔ رجوع کے بعد مزید دو طلاقوں کا اختیار ہو گا۔علامہ محمد امین بن عمر ابن عابدین شامی الحنفی(ت1252ھ) لکھتے ہیں:
وَلَوْ أَقَرَّ بِالطَّلَاقِ كَاذِبًا أَوْ هَازِلًا وَقَعَ قَضَاءً.(رد المحتار: ج3 ص236)
ترجمہ: اگر کسی شخص نے طلاق کا اقرار کر لیا (کہ میں نے بیوی کو طلاق دی ہے) چاہے وہ جھوٹا اقرار کرے یا مذاق میں کرے بہرصورت طلاق واقع ہو جائے گی۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved