- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
اگر کسی مسلمان کی میت کسی غیر مسلم تنظیم کے پاس ہو اور اس کے تمام قانونی معاملات وہی تنظیم مکمل کرے، میت کو دوائی وغیرہ لگا کر ڈبے میں بند کر دیا جائے۔ غسل دینے سے معاملہ خراب ہوتا نظر آتا ہوتو ایسی صورت میں ہمیں کیا کرنا چاہیے۔ رہنمائی فرمائیں۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
آپ نے سوال میں وضاحت نہیں کی کہ وہ غیر مسلم تنظیم غسل دیے بغیر ہی مسلمان میت کو تابوت میں پَیک کر تی ہے یا مسنون طریقے کا لحاظ رکھے بغیر ویسے ہی غسل دیتی ہیں۔ تا ہم آپ کے سوال سے متعلق چند صورتیں ذیل میں درج کی جاتی ہیں۔(1) اگر اس غیر مسلم تنظیم میں مسلمان ملازم بھی موجود ہوں تو مسلمان میت کے غسل کے لیے ان کی خدمات لی جائیں۔ اگر مسلمان ملازم نہ ہوں تو غیر مسلم ملازمین کو سلیقہ مندی سے غسل دینے کا مسنون طریقہ سمجھا دیا جائے اور درخواست کی جائے کہ وہ اس کا لحاظ رکھیں۔ اگر وہ اس طریقے سے غسل دے دیں تو بہت اچھا، ورنہ جیسے بھی غسل دیا ہو غسل ہو جائے گا، اب تابوت کھول کے دوبارہ غسل دینے کی ضرورت نہیں۔(2) اگر غیر مسلم تنظیم مسلمان میت کو غسل دیے بغیر ہی تابوت میں بند کر دیتی ہے، اس صورت میں اگر میت کو باہر نکال کے غسل دینا ممکن ہو تو غسل دیا جائے ، غسل دینا کسی طرح ممکن نہ ہو تو تیمم کرا دیا جائے۔ اس صورت میں تیمم غسل کا بدل بن جائے گا۔( 3) اگر میت کو غسل دیے بغیر ہی باڈی بیگ(Body Bag) میں بند کر دیا گیا ہو اور اس سے نکال کر غسل دینا یا تیمم کرانا بالکل ممکن نہ ہو، مثلاً: حکومتِ وقت کی طرف سے اسے کھولنے پر پابندی ہویا کوئی اور ناقابلِ برداشت پریشانی کا اندیشہ ہو تو ایسی صورت میں غسل و تیمم کا حکم ساقط ہو جائے گا۔ایسی صورت میں میت کی نمازِ جنازہ ادا کر کے تدفین کر دی جائے۔نوٹ: کوئی ایسی صورت جو ان کے علاوہ ہو تو اسے پوری تفصیل کے ساتھ لکھ کر دوبارہ بھیج دیں یا مسئلہ کی موجودہ نوعیت کے پیشِ نظر مقامی علماء کرام سے رجوع فرما لیجیے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved