• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

مشروط نکاح کرنے سے بیوی حلال ہو گی یا نہیں ؟

استفتاء

ایک مسئلہ پوچھنا تھا کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کوتین طلاق دی بعد میں احساس ہوا ایک چھوٹا بچہ بھی ہے اس لیے گھر کی بات باہر نہ نکلے تو عدت پوری ہونے کے بعد اپنے چچا زاد بھائی سے اس شرط پر نکاح کروا دیا کہ ایک رات جماع کرنے کے بعد طلاق دے دے گا اور اس کے چچا زاد بھائی نے نکاح اور جماع(ملاپ) کرنے کے بعد پھر طلاق دے دی اب عدت گزرنے کے بعد پہلا خاوند دوبارہ نکاح کرنا چاہتا ہے، کیا اس کے لیےاس طرح نکاح کرنا صحیح ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

تین طلاق کی عدت گزرنے کے بعد دوسرے خاوند سے نکاح کرتے وقت اگر یہ شرط لگادی گئی کہ وہ صحبت کرنے کے بعد چھوڑ دے گا تو اس شرط و اقرار کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا ۔اب اس کی مرضی ہے چھوڑے یا ساتھ رکھے یا جب جی چاہے چھوڑے ۔ لیکن یاد رہے کہ اس طرح مشروط طریقے سے نکاح کرنا بہت بڑا گناہ ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے طریقہ سے نکاح کرنے والوں پہ لعنت فرمائی ہے۔ مگر اس مشروط نکاح کے باوجود دوسرے خاوند نے صحبت کرکے طلاق دے دی یا فوت ہوگیا تو عدت کے بعد پہلے خاوند کےلیے عورت بہر حال حلال ہوجائے گی۔ہاں اگر دوسرے شوہر سے نکاح کرتے وقت طلاق کی شرط نہ لگائی ہو لیکن اس کے جی میں ہو کہ میں صحبت کے بعد طلاق دے دوں گا تو یہ صورت اس لعنت والی وعید میں داخل نہیں ہے۔مفتی اعظم ہند حضرت اقدس مفتی محمود حسن گنگوہی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:حدیث “لَعَنَ اللّٰہُ الْمُحَلِّلَ وَالْمُحَلَّلَ لَہٗ”(اللہ تعالیٰ کی لعنت ہوتی ہے حلال کرنے والے پر اور اس شخص پر بھی جس کے لیے عورت حلال کی گئی ہے) کا محمل وہ صورت ہے جب کہ حلالہ پر اجرت طے کر لی جائے یا طلاق دینے کو شرط کر لیا جائے، اگر طلاق کو شرط نہ ٹھہرائے اور نہ ہی اجرت طے ہو بلکہ اپنے جی میں رکھے کہ ایک دو روز رکھ کر طلاق دے دوں گا، تاکہ بے چارے زوج اوّل کا گھر ویران نہ ہو، بچے ضائع نہ ہوں تو یہ جائز ہی نہیں بلکہ اس پر اجر ملتا ہے۔(ملفوظاتِ فقیہ الامت: ج 1 ص 14)واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved