• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

مؤذن کے بے ہوش ہونے کی صورت میں اذان کا حکم

استفتاء

اگر اذان دیتے وقت زید بے ہوش ہوا تو کیا اذان کے الفاظ نئے سرے سے دہرانے ہیں یا اگر کوئی شخص وہاں موجود ہو تو کیا وہ وہیں سے ہی شروع کر سکتے ہیں جہاں سے مؤذن نے چھوڑے تھے؟ یا اگر مؤذن ہی جلد ہوش میں آ جائے تو کیا وہیں سے ہی اذان شروع کر سکتا ہے جہاں سے اس نے چھوڑا تھا؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

اس صورت میں مستحب یہی ہے کہ اذان کے الفاظ ازسرِ نو دہرائے جائیں خواہ وہاں پر موجود شخص دہرائے یا خود مؤذن جلد ہوش میں آنے کی صورت میں دہرائے۔ ہاں اگر خود مؤذن یا دوسرا شخص وہیں سے اذان شروع کر دے جہاں سے چھوڑی گئی تھی تو یہ بھی جائز ہے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved