• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

میلاد منانے کی دلیل اور اس کا جواب

استفتاء

سنن نسائی شریف میں ہے:حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے۔ اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کے حلقے سے پوچھا: تم کیوں بیٹھے ہو؟ انہوں نے عرض کیا کہ ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہوئے بیٹھے ہیں اور اس کا شکر کرتے ہیں کہ اس نے اپنا دین ہم کو بتایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیج کر ہم پر احسان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں قسم خدا کی! کیا تم اس لئے بیٹھے ہو؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: قسم خدا! کی ہم اسی لئے بیٹھے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تم کو اس واسطے قسم نہیں دی کہ تم کو جھوٹا سمجھا بلکہ اس لئے کہ جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آئے اور کہا کہ اللہ تعالیٰ فخر کرتا ہے تم لوگوں سے فرشتوں پر یعنی فرشتوں سے کہتا ہے کہ دیکھو! یہ میرے بندے کیسے ہیں جو باوجود دنیا کی خواہشوں کے میری یاد میں مصروف ہیں۔اہلِ بدعت کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے میلاد منانا ثابت ہوا اور باقی رہی ہر سال منانے کی بات تو اہلِ بدعت کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے زندگی میں حج بھی ایک مرتبہ کیا تھا تو تم ایک سے زائد مرتبہ کیوں کرتے ہو؟حضرت! اس کا جواب دے کر ممنون فرمائیں!

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

[۱]: اہلِ بدعت ماہِ ربیع الاول خصوصا ً 12 ربیع الاول کا دن مقرر کر کے اس میں میلاد مناتے ہیں، مختلف مقامات پر محافل ومجالس منعقد کرتے ہیں، اسی دن جلوس نکالتے ہیں، کھانا کھلانے کا اہتمام اور مٹھائی تقسیم کرتے ہیں، اسی دن بھاری بھرکم وزن کے کیک کاٹتے ہیں، بعض علاقوں میں باقاعدہ ”عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم“ کے نام پر دو رکعت نمازِ عید پڑھنے کا اہتمام کرتے ہیں اور ایک دوسرے کو ”عید مبارک“ کہہ کر مبارک باد دیتے ہیں، خواتین کی محافل میلاد منعقد ہوتی ہیں جن میں اونچی اونچی آواز میں اسپیکر پر نعت خوانی ہوتی ہے، وغیرہ وغیرہ…. یہ وہ امور ہیں جو ان کے ہاں پائے جاتے ہیں۔ تو کیا سنن نسائی کی مذکورہ روایت میں ان امور کا ثبوت ہے؟ اگر نہیں ہے اور یقیناً نہیں ہے تو یہ روایت ان لوگوں کی دلیل کیسے بنی؟ اس روایت میں تو مطلقا اس بات کا تذکرہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احسانات اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہستی کا استحضار ہونا چاہیے کہ اتنی عظیم شخصیت ہمارے ہاں پیغمبر بن کر تشریف لائی ہے۔ اس لیے اہلِ بدعت کو چاہیے کہ اپنے دعویٰ وعمل اور دلیل میں مطابقت کو سمجھیں پھر اس کے مطابق دلیل دیں![۲]: باقی رہا اہلِ بدعت کا یہ کہنا کہ ”حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے زندگی میں حج بھی ایک مرتبہ کیا تھا تو تم ایک سے زائد مرتبہ کیوں کرتے ہو؟“ تو اس کے جواب میں عرض ہے کہ• حج کا ثبوت تو شریعت میں موجود ہے اور یہ زندگی میں ایک بار فرض ہے اور اگر اللہ نے وسعت دی ہو تو ایک سے زائد بار کرنا جائز ہے ممنوع نہیں ہے….. لیکن ”میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم“ کے نام پر جشن اور اس جیسی خلافِ شریعت چیزوں کا تو ثبوت ہی نہیں، پھر اسے حج پر قیاس کرنا کہاں درست ہے؟!• اہلِ بدعت اگر دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباعِ کرتے ہیں تو ان کی اسی دلیل میں ان کا جواب موجود ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج زندگی میں ایک بار کیا ہے۔ اب اہلِ بدعت کو بھی چاہیے کہ اگر عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم مناتے ہیں (گو کہ یہ بھی خلافِ شریعت ہے) تو ایک ہی بار منائیں ، ہر سال نہ منائیں ورنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کا دعویٰ چھوڑ دیں!واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved