- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
ایک سوال آپ کی خدمت میں ہے۔ اس کا تشفی بخش جواب عنایت فرما دیں!زید نے ایک پلاٹ 2016ء میں اس نیت سے خریدا تھا کہ اگر اچھی قیمت ملی تو اس پلاٹ کو پانچ سال بعد بیچ دے گا لیکن اب زید نے اس ارادہ کو بدل دیا ہے۔ اب زید کا بیچنے کا ارادہ نہیں ہے۔ تو کیا اس حال میں اس پلاٹ کی زکوٰۃ کی ادائیگی فرض ہے؟اور اگر فرض ہے تو کب سے کب تک کی زکوۃ فرض ہو گی؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مالِ تجارت میں تجارت کی نیّت ختم کر دینے سے زکوٰۃ ساقط ہو جاتی ہے۔سوال میں ذکر کردہ صورت میں یہ بات واضح رہے کہ زید کی زکوٰۃ کی ادائیگی کی جو تاریخ مقرر ہے اگر اس تاریخ کے آنے سے پہلے پہلے اس نے اپنی نیت تبدیل کر لی تھی تو زکوٰۃ واجب نہیں اور اگر اس تاریخ کے آنے کے بعد زید نے نیت تبدیل کی ہے تو سابقہ زمانے کی زکوٰۃ ادا کرنا لازم ہو گا۔علامہ عالم بن العلاء الانصاری الدھلوی الحنفی (ت 786ھ) فرماتے ہیں:وھٰذا بخلاف ما لو کان عبد للتجارۃ ینوی ان یکون للخدمۃ بطل عنہ الزکوٰۃ بمجردالنیۃ․(الفتاوی التاتارخانیہ:ج2 ص180کتاب الزکوٰۃ الفصل الثالث عروض التجارۃ)ترجمہ: اگر کسی شخص نے تجارت کی نیت سے غلام خریدا۔ پھراس کو اپنی خدمت کی نیت سے رکھ لیا تو محض نیت کی تبدیلی کی وجہ سے زکوٰۃ ساقط ہو جائے گی۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved