- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
عرض یہ ہے کہ میرا ایک بیٹا ہے جس کی عمر 8 ماہ ہے اور وہ بڑے آپریشن کے ذریعے پیدا ہوا تھا اور ابھی دوسرا حمل بھی ٹھہر چکا ہے ۔ اب ہم بھی(میں اور میری بیوی)چاہتے ہیں کہ حمل ضائع نہ ہو اور ڈاکٹر کا مشورہ بھی یہی ہے کہ اس حمل کو بحال رکھا جائے اور پہلے بچے کو دودھ پلانا بند کردے ۔اب اس بچے کا دودھ بند کرنے کا کیا حکم ہے؟ اگر میری بیوی اس حالت میں دودھ پلائے تو پلا سکتی ہے ؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
پہلا بچہ جب اتنا چھوٹا ہے اور ہوا بھی آپریشن سے ہے تو آپ دونوں کو خود احتیاط ملحوظ رکھنا چاہیے تھا۔ اب جس پریشانی کا سامنا ہے اس کی نوبت نہ آتی۔حمل کی حالت میں بچے کو دودھ پلانا شرعی طور پہ منع نہیں، دودھ پلایا جائے تو گناہ نہ ہو گا۔ لیکن عموماً حمل کے ساتھ دودھ پلانے سے بچہ یا ماں کے ضرر کا اندیشہ ہوتا ہے۔ اس لیے اگر آپ کوڈاکٹر نے طِبّی نقصان سے آگاہ کر دیا ہے تو آپ ڈاکٹر کی ہدایات پہ عمل کریں۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved