- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
کیا نابالغ کی اذان واقامت کا کیا حکم ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
اگر بچہ سمجھدار ہے تو اس کی اذان اور اقامت درست ہے۔
فتاویٰ عالمگیری میں ہے:
أَذَانُ الصَّبِيِّ الْعَاقِلِ صَحِيحٌ مِنْ غَيْرِ كَرَاهَةٍ فِي ظَاهِرِ الرِّوَايَةِ.
(فتاویٰ عالمگیری: ج1 ص54)
ترجمہ: سمجھدار بچے کی اذان درست ہے، اس میں کوئی کراہت نہیں۔ظاہر الروایہ یہی ہے۔
اذان کا مرتبہ ؛ اقامت سے زیادہ ہے۔ جب اذان درست ہے تو اقامت بھی اسی حکم میں ہو کر درست شمار ہو گی۔
© Copyright 2025, All Rights Reserved