- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
عرض یہ ہے کہ 15 شعبان کی رات کو عید کہہ سکتے ہیں یا نہیں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
اس رات کو عید کہنا درست نہیں کیونکہ شریعت نے مسلمانوں کے لیے دو عیدیں مقرر کی ہیں لہذا انہی ایام کو عید کہا جائے گا اور اس رات کو عید کہنے سے گریز کرناچاہیے۔امام ابو عبد الرحمٰن احمد بن شعیب النسائی رحمہ اللہ ( ت303ھ) روایت نقل کرتے ہیں:عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: كَانَ لِأَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ يَوْمَانِ فِي كُلِّ سَنَةٍ يَلْعَبُونَ فِيهِمَا فَلَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ قَالَ كَانَ لَكُمْ يَوْمَانِ تَلْعَبُونَ فِيهِمَا وَقَدْ أَبْدَلَكُمْ اللَّهُ بِهِمَا خَيْرًا مِنْهُمَا يَوْمَ الْفِطْرِ وَيَوْمَ الْأَضْحَى.سنن النسائی: رقم الحدیث 1555
ترجمہ: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ اہلِ جاہلیت کے ہر سال دو دن ہوتے تھے جن میں وہ کھیل کود کرتے تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے دو دن تھے جن میں تم کھیلتے تھے، اور اللہ تعالیٰ نے تمہیں ان کے بدلے ان سے بہتر دو دن عطا فرما دیے ہیں: ایک عیدالفطر کا دن اور دوسرا عیدالاضحیٰ کا دن۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved