- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
یہ واقعہ کس حدیث پاک میں ہے کہ حضرت محمد عربی صلی الله علیہ وسلم نے مرض الوفات میں دو آدمیوں کے سہارے آخری نماز کے لیے تشریف لائے، حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنہ امامت کرا رہے تھے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ پیچھے ہٹ گئے اور آپ صلی الله علیہ وسلم نے اِمامت فرمائی ۔یہ حدیث مبارک کس کتاب میں ہے؟ مکمل الفاظ و حوالہ کے ساتھ مرحمت فرمائیں۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
یہ حدیث مبارک متعدد کتبِ احادیث میں کچھ الفاظ کی تبدیلی کے ساتھ موجود ہے۔ ذیل میں صحیح البخاری سے مکمل حدیث مع ترجمہ و حوالہ درج کی جاتی ہے:ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں:لَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ بِلَالٌ يُوذِنُهُ بِالصَّلَاةِ فَقَالَ مُرُوا أَبَا بَكْرٍ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ أَسِيفٌ وَإِنَّهُ مَتَى مَا يَقُمْ مَقَامَكَ لَا يُسْمِعُ النَّاسَ فَلَوْ أَمَرْتَ عُمَرَ فَقَالَ مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ فَقُلْتُ لِحَفْصَةَ قُولِي لَهُ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ أَسِيفٌ وَإِنَّهُ مَتَى يَقُمْ مَقَامَكَ لَا يُسْمِعُ النَّاسَ فَلَوْ أَمَرْتَ عُمَرَ قَالَ إِنَّكُنَّ لَأَنْتُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ مُرُوا أَبَا بَكْرٍ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ فَلَمَّا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ وَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَفْسِهِ خِفَّةً فَقَامَ يُهَادَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ وَرِجْلَاهُ يَخُطَّانِ فِي الْأَرْضِ حَتَّى دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَلَمَّا سَمِعَ أَبُو بَكْرٍ حِسَّهُ ذَهَبَ أَبُو بَكْرٍ يَتَأَخَّرُ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى جَلَسَ عَنْ يَسَارِ أَبِي بَكْرٍ فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي قَائِمًا وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قَاعِدًا يَقْتَدِي أَبُو بَكْرٍ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ مُقْتَدُونَ بِصَلَاةِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
صحیح البخاری: حدیث نمبر 713بَاب الرَّجُلُ يَأْتَمُّ بِالْإِمَامِ وَيَأْتَمُّ النَّاسُ بِالْمَأْمُومِ
ترجمہ: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی علالت میں شدت آ گئی تو حضرت بلال رضی اللہ عنہ نماز کی اطلاع دینے کے لیے حاضر ہوئے۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ابو بکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! (میرے والد)ابو بکر بہت نرم دل ہیں، جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ کھڑے ہوں گے تو رقت طاری ہو جانے کی وجہ سے لوگوں کو اپنی آواز صاف طور پر نہ سنا سکیں گے، اس لیے اگر آپ حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) کو حکم دیں تو زیادہ مناسب ہو گا۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر وہی فرمایا کہ ابو بکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔اس کے بعد میں نے حضرت حفصہ سے کہا کہ وہ بھی یہی بات عرض کریں کہ ابو بکر (رضی اللہ عنہ) نرم دل ہیں اور اگر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ کھڑے ہوئے تو شدتِ گریہ کے باعث آواز نہ سنا سکیں گے، لہٰذا آپ حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) کو حکم دیں تو زیادہ بہتر ہو گا۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم عورتیں یوسف( علیہ السلام )کی ساتھیوں سے کم نہیں ہو۔ ابو بکر ہی سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھائے ۔چنانچہ ابو بکر (رضی اللہ عنہ) نماز پڑھانے کے لیے کھڑے ہو گئے۔ اسی دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیماری میں کچھ افاقہ محسوس فرمایا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو آدمیوں کا سہارا لے کر کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس حالت میں چلتے ہوئے مسجد میں تشریف لے آئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدمین شریفین زمین پر گھسٹ رہے تھے۔ چنانچہ جب ابو بکر (رضی اللہ عنہ) نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد محسوس کی تو پیچھے ہٹنے لگے، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارے سے انہیں رکنے کا حکم دیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو بکر (رضی اللہ عنہ) کے بائیں جانب بیٹھ گئے۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر ۔ حضرت ابو بکر( رضی اللہ عنہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء کر رہے تھے اور تمام لوگ حضرت ابو بکر( رضی اللہ عنہ) کی اقتداء میں نماز ادا کر رہے تھے۔واللہ اعلم بالصواب
© Copyright 2025, All Rights Reserved