- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
مسئلہ کچھ ایسا ہے کہ میاں بیوی آپس میں لڑ رہے تھے ۔ شوہر نے کوئی ایسی حرکت کی تھی جس پر بیوی کو غصہ تھا۔ بیوی نے شوہر سے کہا: ”مجھے طلاق دے دو، میں آپ کا راز رکھوں گی، مجھے گیارہ بجے تک طلاق دے دو!“ شوہر نے کہا: میں نے طلاق نہیں دینی۔ لیکن بیوی اپنے شوہر کے سامنے چھری لے آئی اور کہا کہ اگر مجھے طلاق نہیں دی تو میں خود کو مار دوں گی اور پولیس کو کال کر دوں گی۔ اس پر شوہر نے کہا: ” میں آپ کو طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں، میں دل سے تمہیں نہیں دے رہا۔“ واضح رہے کہ شوہر نے 3 بار یہ الفاظ زبردستی کہے ہیں اور شوہر اس وقت اپنے ہوش وحواس میں تھا ۔ کیا یہ طلاق ہو گئی ہے؟ جزاک اللہ خیراً
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
طلاق کا تعلق الفاظ کے ساتھ ہے، دل کے ارادے کے ساتھ نہیں۔ اس لیے اگر خاوند نے اپنی بیوی کو طلاق کے الفاظ کہے ہوں تو طلاق واقع ہو جاتی ہے چاہے اس کے دل کا ارادہ ہو یا نہ ہو۔ سوال میں ذکر کردہ صورت میں بھی چونکہ خاوند نے تین مرتبہ طلاق کے الفاظ استعمال کر لیے ہیں اس لئے اس کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہو چکی ہے اور وہ اپنے خاوند پر حرام ہو چکی ہے۔ اب یہ عورت عدت گزار کر دوسری جگہ نکاح کرنا چاہے تو کر سکتی ہے۔ شوہر کا یہ کہنا کہ ”میں دل سے تمہیں نہیں دے رہا“ بالکل معتبر نہیں۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved