- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
ایک بات مشہور ہے کہ زنا ایک قرض ہے، جو زانی کی ماں ، بیٹی، بیوی یا بہن میں سے کسی سے بھی وصول کیا جائے گا۔ یہ مقولہ ہے یا کوئی حدیث ہے؟ دوسری بات یہ کہ ایک آدمی پوچھتا ہے کہ یہ تو ظلم ہے کہ جرم کوئی اور کرے اور سزاکوئی اور بھگتے۔ جواب عنایت فرمائیں۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
صحیح بات یہ ہے کہ یہ امام محمد بن ادریس الشافعی رحمہ اللہ (ت: 204 ھ) کا مقولہ ہے ۔ آپ رحمہ اللہ کے اشعار کا مجموعہ جو “دیوان الامام الشافعی” کے نام سے موجود ہے، اس میں یہ بات درج ہے۔ وہ اشعار حسبِ ذیل ہیں:
1: عِفُّوا تَعِفُّ نِسَاؤُكُمْ فِي الْمَحْرَمِ … وتَجَنَّبُوا مَالَا يَلِیْقُ لِمُسْلِمٖ2: إن الزِّنَا دَيْنٌ فَإِنْ أَقْرَضْتَهُ … كَانَ الْوَفَا مِنْ أَهْلِ بَيْتِكَ فَاعْلَمٖ3: يَا هَاتِكاً حُرَمَ الرِّجَالِ وَقَاطِعًا… سُبُلَ الْمَوَدَّةِ عِشْتَ غَيْرَ مُكَرّمٖ4: لَوْ كُنْتَ حُرًّا مِنْ سُلَالَةِ مَاجِدٍ…مَا كُنْتَ هَتَّاكًا لِحُرْمَةِ مُسْلِمٖ5: مَنْ يَّزْنِ يُزْنَ بِهٖ وَلَوْ بِجِدَارِہٖ ……. إِنْ كُنْتَ يَا هٰذَا لَبِيبًا فَافْهَمٖترجمہ:1: تم پاک دامنی اختیار کرو (اس کے اثر سے) تمہارے حَرم میں رہنے والی خواتین بھی پاک دامن رہیں گی، اور ایسے امور سے بچا کرو جو مسلمان کی شان کے لائق نہیں۔2: بلاشبہ زنا ایک قرض ہے، اگر تو نے یہ قرض لے لیا تو اس کی ادائیگی تیرے اہلِ خانہ میں سے (کسی فرد سے) ہو گی، یہ بات تو اچھی طرح جان لے۔3: اے لوگوں کی حرمتوں کو پامال کرنے والے! اور محبت کی راہوں کو قطع کرنے والے! (یاد رکھ! اس قبیح فعل کی وجہ سے ) تو بے عزت اور رُسوا زندگی گزارے گا۔4: اگر تو کسی باعزت خاندان کا شریف النفس فرد ہوتا تو (کبھی بھی) کسی مسلمان (خاتون) کی حرمت پر دست درازی نہ کرتا۔5: جو زنا کرے گا تو (بدلے میں) اس کے ہاں بھی زنا ہو گا اگرچہ پسِ دیوار (ہی) ہو، اے انسان! اگر تو عقل مند ہے تو اس بات کو اچھی طرح سمجھ لے۔(دیوان الامام الشافعی رحمہ اللہ : ص 214)
“زنا ایک قرض ہے ” یہ بات احادیث صحیحہ سے ثابت نہیں ہے البتہ اس جملہ سے جس روایت کی طرف اشارہ ملتا ہے اس کے الفاظ یہ ہیں۔ ” عِفُّوا تَعِفُّ نِسَاؤُكُمْ “۔(المعجم الاوسط للطبرانی: حدیث نمبر6295)یہ روایت متعدد طُرق سے منقول ہے، مگر بعض طرق کو ضعیف اور بعض کو موضوع قرار دیا گیا ہے۔باقی یہ کہنا کہ زنا قرض ہےاور اس کی ادائیگی اہلِ خانہ کے کسی فرد سے ہو گی ، یہ کوئی یقینی اور لازمی بات نہیں ہے، کیوں کہ یہ قانونِ شریعت کے خلاف ہے۔ البتہ اس بات کے دو مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ زنا کی شدید نفرت دل میں پیدا ہو جائے اور اپنے اہلِ خانہ کی عصمت و حرمت کا تصور کرتے ہوئے بدکاری سے بچنا آسان ہو جائے۔ دوسرا یہ کہ ممکن ہے کسی گھر کے سربراہ کا زنا اور بدکاری میں ملوّث ہونا اس قدر کثرت سے پایا جائےکہ اس کے اثراتِ بد گھر کی دہلیز میں پائے جانے لگیں اور اس وجہ سے رفتہ رفتہ اہلِ خانہ کے دل سے بھی اس گناہ کی نفرت ختم اور شدت کم ہو جائے اور انجام کار وہ اس گناہ کا شکار ہو جائیں ۔
باقی اگر کسی سے کوئی اس طرح کا گناہ ہو گیا اور اس نے صدقِ دل سے توبہ کر لی تو اللہ تعالیٰ ضرور اس گناہ کو توبہ کی وجہ سے معاف فرما دیں گے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved