استفتاء
حضرت! سوال یہ ہے کہ آیا حضرت امام ابو الحسن اشعری رحمۃ اللہ علیہ نے آخر میں متَشابہات اور استواء کے بارے میں متقدمین اھل السنۃ والجماعۃ کے عقیدے سے رجوع فرما لیا تھا؟ جیسا کہ ”الابانۃ“میں ان کا قول ہے کہ وہ تفویض سے رجوع فرما گئے ہیں۔ برائے مہربانی اس کی وضاحت فرمائیں ۔ جزاک اللہ
ان کا قول یہ ہے:
“إن قال قائل : ما تقولون في الاستواء؟قيل له : نقول : إن الله عز و جل يستوي على عرشه استواء يليق به من غير طول استقرار كما قال : ﴿اَلرَّحْمٰنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوٰى﴾ وقد قال تعالٰى : ﴿اِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُهُ﴾ من الآية وقال تعالٰى : ﴿بَلْ رَفَعَهُ اللّهُ اِلَيْهِ﴾ من الآية وقال تعالٰى : ﴿يُدَبِّرُ الْاَمْرَ مِنَ السَّمَاۗءِ اِلَى الْاَرْضِ ثُمَّ يَعْرُجُ اِلَيْهِ﴾ من الآية وقال تعالٰى حاكيا عن فرعون لعنه الله : ﴿يَا هَامَانُ ابْنِ لِي صَرْحًا لَعَلِّي اَبْلُغُ الْاَسْبَابَ أَسْبَابَ السَّمَاوَاتِ فَأَطَّلِعَ إِلٰى إِلٰهِ مُوسٰى وَإِنِّي لَأَظُنُّهُ كَاذِبًا﴾ من الآيتين كذب موسىٰ عليه السلام في قوله : إن الله سبحانه فوق السماوات ، وقال تعالى : ﴿اَاَمِنْتُمْ مَّنْ فِي السَّمَاۗءِ أَنْ يَّخْسِفَ بِكُمُ الْاَرْضَ﴾ من الآية ، فالسماوات فوقها العرش فلما كان العرش فوق السماوات قال : ﴿اَاَمِنْتُمْ مَّنْ فِي السَّمَاۗءِ﴾ من الآية لأنه مستو على العرش الذي فوق السماوات وكل ما علا فهو سماء والعرش أعلى السماوات وليس إذا قال : ﴿اَاَمِنْتُمْ مَّنْ فِي السَّمَاۗءِ﴾ من الآية يعني جميع السماوات وإنما أراد العرش الذي هو أعلى السماوات ألا ترى الله تعالى ذكر السماوات فقال تعالى : ﴿وَجَعَلَ الْقَمَرَ فِيهِنَّ نُورًا﴾ من الآية ولم يرد أن القمر يملأهن جميعا وأنه فيهن جميعا ورأينا المسلمين جميعا يرفعون أيديهم إذا دعوا نحو السماء لأن الله تعالىٰ مستو على العرش.” (کتاب الابانۃ، الباب السابع، ذکر الاستواء علی العرش)
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
امام ابو الحسن اشعری رحمۃ اللہ علیہ کا موقف وہی ہے جو متقدمین اھل السنۃ والجماعۃ کا ہے۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ مسئلہ صفات میں تفویض ہی کے قائل تھے کہ صفات باری تعالیٰ جس طرح منقول ہیں ان کی تاویل، تعطیل یا تشبیہ کے بغیر ہی ان پر ایمان لایا جائے۔ صفات باری تعالیٰ کی ایسی تاویل جس میں اصل صفت ہی باطل ہو جائے امام موصوف اسے جائز قرار نہیں دیتے۔ سوال میں ذکر کردہ اقتباس عقیدہ تفویض ہی کی ترجمانی ہے جیسا کہ اسی عبارت سے سابق اور لاحق عبارات سے واضح ہوتا ہے۔ امام اشعری رحمۃ اللہ علیہ محوَّلہ عبارت سے متصل بعد فرقہ معتزلہ، جہمیہ اور حروریہ کا عقیدہ یوں نقل کرتے ہیں:
وقد قال قائلون من المعتزلة والجهمية والحرورية : إن معنى قول الله تعالى : (اَلرَّحْمٰنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوٰى) أنه استولى وملك وقهر … وجحدوا أن يكون الله عز و جل مستو على عرشه كما قال أهل الحق وذهبوا في الاستواء إلى القدرة.
ترجمہ: فرقہ معتزلہ، جہمیہ اور حروریہ کے لوگ کہتے ہیں کہ اللہ کے فرمان ”اَلرَّحْمٰنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوٰى“ (رحمٰن عرش پر مستوی ہوا) کا معنیٰ یہ ہے کہ رحمٰن عرش پر غالب ہوا، اور مالک بنا … اور جس طرح اہلِ حق کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ عرش پر مستوی ہے یہ لوگ اس کا انکار کرتے ہیں۔ نیز یہ لوگ استواء کا معنی ”قدرت“ کرتے ہیں۔
امام اشعری رحمۃ اللہ علیہ کی اس تصریح سے ثابت ہوتا ہے کہ فرقہ معتزلہ، جہمیہ اور حروریہ کا موقف؛ صفت استواء کا حتمی معنی (استولیٰ، ملکیت، غلبہ اور قدرت) بیان کر کے نفسِ ”استواء“ کی نفی کرنا ہے۔ امام اشعری رحمۃ اللہ علیہ کا اس سیاق و سباق میں ”إن الله عزو جل يستوي على عرشه استواء يليق به“ فرمانا اور استواء کا کوئی معنی متعین کیے بغیر اسے اللہ کی ذات کے لیے ثابت ماننا (امام موصوف کے الفاظ ”استواء يليق به“ کے الفاظ پر غور کیا جائے) دراصل معتزلہ کے مسلک ؛تاویلِ حتمی اور تعطیل کا رد ہے۔ یہی عقیدۂ تفویض ہے کہ استواء کو کسی تاویل و تعطیل کے بغیر اسی طرح ثابت ماننا جس طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔
چند سطور کے بعد آپ رحمۃ اللہ علیہ صفتِ وجہ اور عین کے متعلق فرماتے ہیں:
قال الله تبارك وتعالى : ( كُلُّ شَيْءٍ هَالِكٌ إِلَّا وَجْهَهُ) وقال تعالى : ( وَيَبْقَى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ) فأخبر أن له سبحانه وجها لا يفنى ولا يلحقه الهلاك وقال تعالى : ( تَجْرِي بِأَعْيُنِنَا) وقال تعالى : ( وَاصْنَعِ الْفُلْكَ بِأَعْيُنِنَا وَوَحْيِنَا) فأخبر تعالى أن له وجها وعينا ولا تكيف ولا تحد.
ترجمہ: فرمان باری تعالیٰ ہے: ”اللہ کے وجہ کے علاوہ ہر چیز ہلاک ہونے والی ہے۔“ مزید ارشاد ہے: ”آپ کے رب کا وجہ ہی باقی رہے گا جو عظمت اور برکت والا ہے۔“ ان ارشادات میں اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ اس کا وجہ ہے جو نہ فنا ہو گا اور نہ ہی ختم ہو گا۔ اسی طرح ارشاد باری تعالیٰ ہے: ”(نوح علیہ السلام کی) وہ (کشتی) ہماری عین کے سامنے چلتی رہی۔“ مزید ارشاد ہے: ” (حضرت نوح علیہ السلام کو خطاب فرمایا کہ) ہماری عین کے سامنے اور ہماری ہدایت کے مطابق کشتی تیار کیجئے۔“ ان ارشادات میں اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ کا وجہ اور عین ہے لیکن نہ تو اس کی کوئی کیفیت ہے اور نہ ہی کوئی حد۔
امام موصوف مزید لکھتے ہیں:
ونفت الجهمية أن يكون لله تعالى وجه كما قال وأبطلوا أن يكون له سمع وبصر وعين.
ترجمہ: فرقہ جہمیہ اللہ تعالیٰ کے فرمان سے جو ”وجہ“ ثابت ہے اس کی نفی کرتا ہے اور اس فرقہ کے لوگوں نے اللہ کے سمع، بصر اور عین کو باطل قرار دیا ہے۔
آگے امام موصوف نے مستقل ایک باب قائم کیا ہے:
”الباب السابع الرد على الجهمية في نفيهم علم الله تعالى وقدرته وجميع صفاته“
ترجمہ: اس باب میں فرقہ جہمیہ کا رد ہے جو اللہ تعالیٰ کے علم، قدرت اور تمام صفات کی نفی کرتے ہیں۔
امام اشعری رحمۃ اللہ علیہ کی ان نصوص سے ثابت ہو رہا ہے کہ فرقہ ہائے باطلہ صفاتِ باری تعالیٰ کی نفی کرتے ہیں ۔ اس ضمن میں امام موصوف کا ”أن له وجها وعينا ولا تكيف ولا تحد“ (اللہ تعالیٰ کا وجہ اور عین ہے لیکن نہ تو اس کی کوئی کیفیت ہے اور نہ ہی کوئی حد) کہنا دراصل معتزلہ کے موقف کا رد ہے اور ان صفات کی کیفیت اور تحدید بیان کئے بغیر انہیں ماننا ؛ یہ عقیدہ تفویض ہی ہے، تفویض سے رجوع نہیں!
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
مرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا