- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
کیا آج کل کے دور میں ایک عورت شادی کے بغیر باعزت طریقے سے زندگی گزار سکتی ہے یا نہیں؟ کیا وہ مرد کے بغیر معاشرے میں وقت نہیں گزر سکتی ؟ مثلاً، بیوہ طلاق یافتہ، یتیم وغیرہ اور ایسی عورت کو اس نظر سے دیکھنا کہ وہ مرد کے بغیر معاشرے میں باعزت زندگی نہیں گزار سکتی ہے یہ نظریہ کیسا ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ دینِ اسلام میں شادی کرنے کی بہت زیادہ تاکید ہے، شادی ایسی چیز ہے جو مرد یا عورت کے لیے پر سکون، محفوظ اور باوقار زندگی بسر کرنے کا ذریعہ بنتی ہے،شادی میں جہاں انسان کی جسمانی ضرورت کا سامان موجود ہوتا ہے وہاں اسے تکمیلِ ایمان کا سبب بھی قرار دیا گیا ہے۔ اس لیے شریعت مبارکہ میں (کسی شرعی یا طبعی عذر کے بغیر)نکاح کی وسعت اور اسباب کے ہوتے ہوئے بھی نکاح نہ کرنے کو انتہائی ناپسندیدہ سمجھا گیا ہے۔انسان کی فطرت میں اللہ پاک نے شہوت رکھی ہے، اسے پورا کرنے کا جائز راستہ شادی ہے، اس لیےشادی کے ذریعے سے عفت و عصمت کی حفاظت سہل ہو جاتی ہے اور بغیر شادی کے عصمت و عزت کی حفاظت دشوار تو یقیناً ہوتی ہے لیکن ناممکن نہیں ہوتی۔ گزشتہ زمانے میں اس کی کافی مثالیں موجود ہیں، ایسی بہت سی نام وَر بزرگ شخصیات گزری ہیں جن میں علمی اور دینی انہماک اس قدر تھا کہ انہوں نے اپنی ساری زندگی دین کی خدمت اور اشاعت کے لیے وقف کر دی اور شادی نہیں کی۔ مگر انہیں اپنے نفسانی و شہوانی جذبات اور تقاضوں پر کنٹرول حاصل تھا، تقویٰ اور کثرتِ عبادت کی بہ دولت ان کے لیے اپنی عصمت و عفت کی حفاظت سہل تھی،اس لیے وہ گناہوں سے آلودہ نہ ہوئے۔اچھی تعلیم و تربیت اور نیک لوگوں کی صحبت کی برکت سے تقویٰ اور خوفِ خدا کی دولت نصیب ہوتی ہے، جس کی وجہ سے گناہوں سے بچنا سہل ہو جاتا ہے، اور انسان غیر شادی شدہ ہونے کے باوجود اپنی عزت کی حفاظت کر لیتا ہے، اس کے برعکس اگر بُری صحبت ہو اور غلط لوگوں سے مراسم ہوں تو شادی شدہ لوگ بھی اپنی عفت گنوا بیٹھتے ہیں، ہمارے معاشرے میں دونوں طرح کے افراد کی مثالیں موجود ہیں۔
حاصل یہ ہے کہ نکاح اور شادی کے تمام تر فضائل کے باوجود شریعت مبارکہ نے اس بات کی قطعاً اجازت نہیں دی کہ غیر شادی شدہ ہونے کی بناء پر کسی بھی مرد یا عورت کو معیوب سمجھا جائے ، اس کے بارے میں بدگمانی کی جائے یا عزت وعفت کے معاملے میں اس پر انگلی اٹھائی جائے، اور حتمی طور پر یہ ذہن بنا لینا بھی ہرگز درست نہیں کہ شادی کے بغیر عزت و ناموس کی حفاظت ناممکن ہے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved