• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

کسی کی غیر مناسب ویڈیوز لِیک کرنا کیسا ہے؟

استفتاء

میرا سوال یہ ہے کہ اکثر اوقات جو ایکٹریس ہوتی ہیں ان کی نجی محفل کی ویڈیوز لیک ہوجاتی ہیں ، اب لوگ ان کو آگے شیئر کرتے ہیں۔ منع کرنے پر کہتے ہیں کہ یہ کون سا شریف ہیں اور باپردہ کام کرتی ہیں ، ویسے بھی تو بے حیائی ہی پھیلاتی ہیں ، لہٰذا ان کی ویڈیوز شیئر کرنا کوئی جرم نہیں!
سوال یہ ہے کہ کیا ایسا کرنا اسلام کی نظر میں جرم ہے یا نہیں؟ اور ایسا کرنے سے قیامت کے دن یہ لوگ ان ایکٹریس کو جواب دِہ ہوں گے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد مبارک ہے: 
إِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَنْ تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ آمَنُوا لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ
 (النور:19)
ترجمہ: یقیناً جو لوگ  چاہتے ہیں کہ ایمان والوں میں بے حیائی پھیلے ان کے لیے دکھ دینے والا عذاب ہے دنیا میں (بھی) اور آخرت میں (بھی)۔ اور اللہ جانتا ہے تم نہیں جانتے۔
(2)  حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: 
” قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَتْ لَهُ مَظْلَمَةٌ لِأَخِيهِ مِنْ عِرْضِهِ أَوْ شَيْءٍ فَلْيَتَحَلَّلْهُ مِنْهُ الْيَوْمَ قَبْلَ أَنْ لَا يَكُونَ دِينَارٌ وَلَا دِرْهَمٌ إِنْ كَانَ لَهُ عَمَلٌ صَالِحٌ أُخِذَ مِنْهُ بِقَدْرِ مَظْلَمَتِهِ وَإِنْ لَمْ تَكُنْ لَهُ حَسَنَاتٌ أُخِذَ مِنْ سَيِّئَاتِ صَاحِبِهِ فَحُمِلَ عَلَيْهِ” 
(صحیح البخاری، حدیث نمبر:2449)
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کا  کسی دوسرے کی عزت یا کسی اور چیز میں ظلم کا معاملہ ہو تو اسے چاہیے کہ آج ہی (دنیا میں) اس دن کے آنے سے پہلے معاف کرا لے، جس دن نہ دینار ہوں گے نہ درہم۔ بلکہ اگر اس کا کوئی نیک عمل ہو گا تو اس کے ظلم کے حساب سے وہی لے لیا جائے گا، اور اگر کوئی نیک عمل اس کے پاس نہیں ہو گا اس کے (مظلوم) ساتھی کی برائیاں اس پر ڈال دی جائیں گی۔
(3)  حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتےہیں:
” قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ سَتَرَ عَوْرَةَ أَخِيْهِ الْمُسْلِمِ سَتَرَ اللّٰهُ عَوْرَتَهٗ  يَوْمَ الْقِيَامَةِ  وَمَنْ كَشَفَ عَوْرَةَ أَخِيْهِ الْمُسْلِمِ كَشَفَ اللّٰهُ عَوْرَتَهٗ حَتّٰى يَفْضَحَهٗ  بِهَا فِيْ  بَيْتِهٖ “
(صحیح ابن ماجہ، حدیث نمبر:2546)
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے مسلمان بھائی کی پردہ پوشی کرے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی فرمائیں گے، اور جو شخص اپنے مسلمان بھائی کا پردہ فاش کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کا پردہ فاش کر دے گا یہاں تک کہ اسے گھر بیٹھے رسوا کر دے گا”۔
معلوم ہوا کہ کسی انسان کےعیوب کی تلاش میں رہنا، اس کی برائیوں کو اچھالنا ، اس کی خامیوں کو پھیلانا اور اس کے راز فاش کرنا بہت سخت گناہ ہے۔  ہر انسان اپنے اچھے برے عمل کا خود جواب دِہ ہو گا، کسی کا بوجھ کسی دوسرے پر نہ ہو گا۔    جو لوگ  دوسروں  کی برائی کو پھیلاتے ہیں، گندی ویڈیوز یا میسجز شیئر کرتے ہیں  وہ دوہرے جرم کے مرتکب  ہوتے ہیں، پہلا یہ کہ   کسی انسان کا راز فاش کرتے ہیں، دوسرا یہ کہ معاشرے میں  بےحیائی اور فحاشی  کو فروغ دیتے ہیں۔  اس لیے  ان پر لازم ہے کہ اپنی اس قبیح حرکت سےتوبہ کریں۔ کیوں کہ   قیامت کے دن جہاں گناہ گار سے اس کے گناہوں کے بارے مؤاخذہ ہوگا وہیں اس گناہ گار کے ساتھ ظلم اور زیادتی کرنے والوں کا حساب بھی ہو گا۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء 
مرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved