• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مروی احادیث کی تعداد کم کیوں ہے؟

استفتاء

سوال یہ ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللّٰہ عنہ رسولِ اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ زیادہ رہے لیکن ان سے مروی روایات کی تعداد بہت کم ہے جب کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ عنہ کی روایات کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔اس کی کیا وجہ ہو سکتی ہے جواب عنایت فرما دیجئے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی کے ساتھ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی عقیدت اور محبت کمال درجہ کی تھی مگر ہر ایک کا انداز اور رنگ اپنا اپنا تھا۔خلیفۂِ بلافصل حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ میں محبت کا یہ پہلو تھا کہ اگر میں کوئی بات حدیث سمجھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی کی طرف منسوب کروں مگر کہیں ایسا نہ ہو جائے کہ نسیان ، سہو یا کسی بھی وجہ سےکچھ کمی بیشی ہو جائے اور جیسا سنا ویسا نقل نہ کر سکوں، تو اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف خلافِ حقیقت بات منسوب ہو جائے گی۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ میں محبت کا یہ پہلو تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات اور تعلیمات جو آپ سے سنے ہیں وہ زیادہ سے زیادہ امت تک پہنچ جائیں تاکہ امت کے لیے ان سے نفع اٹھانا اور عمل کرنا آسان کو ہوجائے۔خلاصہ یہ کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ حد درجہ تقویٰ اور احتیاط کی وجہ سےکم، اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فیضانِ نبوت کو عام کرنے کے پیشِ نظر زیادہ احادیث مبارکہ بیان فرماتے تھے،تو حقیقت میں دونوں حضرات کے عمل کی بنیاد محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی تھی۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved