• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

گھر میں سربراہ کی حیثیت

استفتاء

گھر کے اندر باپ فوت ہونے کے بعد فیصلہ کرنے کا اختیار کس کو ہوتا ہے گھر کا سربراہ کون ہے ؟اگر اختیار بیٹے کو ہوتا ہے تو بعض باتوں میں والدہ اور بہن بھائیوں سے اگر کسی چیز میں اختلاف ہوتا ہے تو کس کے ذمہ اختلاف میں حتمی بات کرنا ہوتا ہے اگر بڑا اور بزرگ ہونے کے ناطے اختیار والدہ کا ہے تو سربراہ کی کیا اہمیت ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

آدمی کی وفات کے بعد گھر کی اصل ذمہ داری اور کفالت بیٹے کے کندھوں پر آتی ہے، کیونکہ شریعت نے نان و نفقہ، حفاظت اور انتظامِ خانہ کی ذمہ داری مرد پر عائد کی ہے۔ اس لحاظ سے بیٹا گھر کا منتظم اور ذمہ دار ہوتا ہے۔
البتہ گھر کی مرکزی حیثیت والدہ کو حاصل رہتی ہے، کیونکہ وہ گھر کی بزرگ، مربیہ اور اولاد کے لیے سب سے زیادہ حق رکھنے والی ہستی ہے۔ اس کا مقام ماں ہونے کی وجہ سے نہایت بلند ہے، اور اس کی عزت، خدمت اور مشورہ کو مقدم رکھنا اولاد پر لازم اخلاقی فریضہ ہے۔
لہٰذا صحیح توازن یہ ہے کہ انتظام و کفالت بیٹا سنبھالے، جب کہ وقار، رہنمائی اور مرکزی احترام ماں (بیوہ) کا برقرار رہے؛ یوں گھر کا نظام بھی درست رہے گا اور ماں کا مقام و مرتبہ بھی برقرار رہے گا۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
مرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved