- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
زاہدہ کا سسرالی گھرانہ دین دار نہیں ہے۔ وہ لوگ غلط عقائد رکھنے والے ہیں اور زاہدہ کو تکلیف بھی دیتے ہیں ، اسی وجہ سے زاہدہ اپنے شوہر کو چھوڑ کر اپنے والدین کے ساتھ رہتی ہے ۔ اب شوہر طلاق بھی نہیں دیتا اور خلع مانگنے پر خلع بھی نہیں دیتا۔ شریعت کی روشنی میں حل مطلوب ہے کہ اب زاہدہ کیا کرے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
شریعت مطہرہ نے نکاح جیسے خوب صورت رشتہ کو نبھانےاور برقرار رکھنے کا حکم دیا ہے۔ معمولی اختلافات کی بناء پر اس بند ھن کو توڑنا شریعت کی نظر میں انتہائی ناپسندیدہ ہے۔ اس کے باوجود جہاں نبھاہ نہ ہونے کا کوئی شرعی عذر پایا جا رہا ہو وہاں شریعت نے نکاح ختم کرکے علیحدگی اختیار کرنے کی اجازت دی ہے۔سوال میں اگر وضاحت کر دی جاتی کہ زاہدہ کا شوہر کن غلط عقائد کا حامل ہے تو بہتر ہوتا، تاکہ اس کی روشنی میں جواب لکھا جاتا۔ باقی محض لڑائی جھگڑے اور معمولی رنجش کو محبت، سلیقہ اور سمجھ داری سے دور کیا جاسکتا ہے۔ تاہم اگر شوہر کی طرف سے تکلیف اور اذیّت ملنے کی وجہ سے صلح اور نبھاہ کی کوئی صورت نہیں بن سکتی اور شوہر طلاق یا خلع پر بھی آمادہ نہیں ہوتا تو اس صورت میں عورت عدالت کے ذریعے خلع لے سکتی ہے۔ لیکن یاد رہے کہ عدالتی خلع کے معتبر ہونے کی چند شرائط ہیں، اگر یہ نہ پائی جائیں تو عدالتی خلع معتبر نہیں ہوتا۔ اس حوالے سے میرا ایک تفصیلی فتویٰ موجود ہے، جسے طوالت کی وجہ سے یہاں نقل نہیں کیا جا رہا۔ ضرورت کے وقت طلب کر لیجیے، ارسال کر دیا جائے گا۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved