• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

عالمِ دین کی کفالت اور علمِ دین پر خرچ کرنے کا اجر و ثواب

استفتاء

میرے بڑے بھائی الحمد اللہ عالم ہیں اور مدرسہ میں بچوں کو 8 سالہ دینی تعلیم دیتے ہیں۔ ان کے گھر کا خرچ الحمد اللہ میں اٹھاتا ہوں۔ یہ میرے لیے صدقہ ہے یا صدقہ جاریہ ہے۔ مطلب کیا صرف ان کے گھر پیسے دینے کا اجر ملے گا یا ان کا تمام اجر اور ان کے شاگرد پھر شاگردوں کے شاگرد اوراسی طرح قیامت تک شاگردوں کا اجربھی مجھے ملے گا؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

الحمد للہ، آپ کا اپنے عالم بھائی کی معاشی کفالت کرنا اور ان کے گھر کا خرچ اٹھانا ایک عظیم نیکی اور بہترین “صدقہ جاریہ” ہے۔ آپ کا یہ عمل محض ایک عام مالی اعانت نہیں، بلکہ علمِ دین کی ترویج و اشاعت میں براہِ راست حصہ ڈالنے کے مترادف ہے۔
علماء اور طلباء کی معاشی ضروریات کو پورا کرنا تاکہ وہ فکرِ معاش سے آزاد ہو کر یکسوئی کے ساتھ دین سیکھ اور سکھا سکیں، شریعت کی نظر میں ایک انتہائی پسندیدہ اور افضل عمل ہے۔ چونکہ آپ کی مالی معاونت کی بدولت آپ کے بھائی دین پڑھانے میں مشغول ہیں، اس لیے وہ جتنا علم پھیلائیں گے اور ان کے شاگرد آگے جتنا دین سکھائیں گے، ان سب کے اجر میں آپ بھی برابر کے شریک ہوں گے، اور یہ ثواب ان شاء اللہ قیامت تک آپ کے لیے صدقہ جاریہ بن کر ملتا رہے گا۔ اللہ تعالیٰ اپنے راستے میں لگنے والوں کی کفالت کرنے والوں کے رزق میں بھی بے پناہ برکت عطا فرماتا ہے۔والدلیل علی ما قلنا:
1: امام ابو داؤد سلیمان بن الاشعث السجستانی رحمہ اللہ ( ت 275ھ) روایت کرتے ہیں:
عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ: “إِذَا مَاتَ الْإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَنْهُ عَمَلُهٗ إِلَّا مِنْ ثَلَاثَةِ أَشْيَاءَ مِنْ صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ أَوْ عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِهِ أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُو لَهُ”(سنن ابی داؤد: رقم الحدیث 2880)ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انسان جب فوت ہو جاتا ہے تو تین صورتوں کے علاوہ اس کے سب عمل منقطع ہو جاتے ہیں (اور وہ یہ ہیں) جاری رہنے والا صدقہ، وہ علم جس سے نفع اٹھایا جاتا رہے اور نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرتی رہے۔
علمِ دین پھیلانا اور اس میں مالی تعاون کرنا اسی صدقہ جاریہ کا حصہ ہے۔
2: امام ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ بن سورۃ الترمذی رحمہ اللہ (ت 279ھ) روایت کرتے ہیں:
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ ، قَالَ: كَانَ أَخَوَانِ عَلٰى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ أَحَدُهُمَا يَأْتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْآخَرُ يَحْتَرِفُ، فَشَكَا الْمُحْتَرِفُ أَخَاهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: لَعَلَّكَ تُرْزَقُ بِه.(سنن الترمذی: رقم الحدیث 2345)

ترجمہ: سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں دو بھائی تھے، ان میں ایک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں (علمِ دین سیکھنے کے لیے) رہتا تھا اور دوسرا محنت و مزدوری کرتا تھا، محنت و مزدوری کرنے والے نے ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے بھائی کی شکایت کی (کہ وہ کمانے میں حصہ نہیں لیتا) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شاید تجھے اسی کی وجہ سے روزی ملتی ہو۔واللہ اعلم بالصوابدار الافتاءمرکز اھل السنۃ والجماعۃ سرگودھا، پاکستان

© Copyright 2025, All Rights Reserved