• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

وبائی امراض سے بچاؤ کی شرعی حیثیت

استفتاء

کرونا وائرس اور دیگر وبائی امراض کے موقع پر اختیار کی جانے والی احتیاطی تدابیر، مثلاً منہ کو ڈھانپنا، بار بار ہاتھ دھونا، گھر واپس آکر لباس تبدیل کرنا، غیر ضروری طور پر باہر نہ نکلنا اور مصافحہ سے اجتناب کرنا وغیرہ، کیا شرعاً درست ہیں یا ان سے انسان میں وہم اور وسوسہ پیدا ہوتا ہے کہ کہیں وائرس یہاں سے نہ لگ جائے یا وہاں سے نہ لگ جائے؟
نیز علماءِ کرام سے حدیثِ مبارک ” لَا عَدْوٰى” (بیماری خود بخود متعدی نہیں ہوتی) بھی سنی ہے، اور یہ بھی معلوم ہے کہ شریعت نے وبا زدہ علاقے میں جانے اور وہاں سے نکلنے سے منع فرمایا ہے۔ ان دونوں تعلیمات میں تطبیق کی کیا صورت ہے؟
اس سلسلے میں ایک مسلمان کا طرزِ عمل کیا ہونا چاہیے؟ کیا وہ صرف دعاؤں کے اہتمام، اللہ تعالیٰ پر توکل اور معمول کی صفائی ستھرائی پر اکتفا کرے، یا مذکورہ احتیاطی تدابیر کو اختیار کرنا بھی شرعاً مطلوب اور توکل کے منافی نہیں؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

شریعتِ مطہرہ کی تعلیمات میں توکل علی اللہ اور ظاہری اسباب کو اختیار کرنا دونوں کو یکجا رکھا گیا ہے۔ ایک طرف اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسا اور اسباب کو غیر مؤثرِ حقیقی سمجھنا مطلوب ہے، تو دوسری طرف ان اسباب کو اختیار کرنا بھی شریعت کا تقاضا ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے نفع و ضرر کا ظاہری ذریعہ بنایا ہے۔
احادیثِ مبارکہ میں وارد “لَا عَدْوٰى” کا مطلب یہ نہیں ہے کہ بیماری سرے سے ایک شخص سے دوسرے شخص تک منتقل ہی نہیں ہوتی، بلکہ اس کا مقصود زمانۂ جاہلیت کے اس عقیدے کی تردید کرنا ہے کہ بیماری بذاتِ خود اور اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر لازماً منتقل ہوتی ہے۔ اسلام نے اس باطل عقیدے کی نفی کرتے ہوئے یہ تعلیم دی کہ بیماری کا منتقل ہونا بھی اللہ تعالیٰ ہی کے حکم اور مشیت کے تحت ہے، اس میں بیماری کو کوئی مستقل اور ذاتی تاثیر حاصل نہیں۔
اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک طرف “لَا عَدْوٰى” فرمایا اور دوسری طرف یہ بھی ارشاد فرمایا:
“فِرَّ مِنَ الْمَجْذُوْمِ كَمَا تَفِرُّ مِنَ الْأَسَدِ.”(صحیح البخاری: رقم الحدیث 5707)ترجمہ: مجذوم سے اس طرح دور رہو جیسے شیر سے دور بھاگتے ہو۔اور طاعون کے بارے میں یہ ہدایت فرمائی کہ جب کسی علاقے میں وبا پھیل جائے تو وہاں نہ جاؤ اور اگر تم اس علاقے میں موجود ہو تو وہاں سے باہر نہ نکلو۔
عَنْ سَعْدٍ، أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ الْوَجَعَ، فَقَالَ: “رِجْزٌ أَوْ عَذَابٌ عُذِّبَ بِهِ بَعْضُ الْأُمَمِ ثُمَّ بَقِيَ مِنْهُ بَقِيَّةٌ، فَيَذْهَبُ الْمَرَّةَ وَيَأْتِي الْأُخْرٰى، فَمَنْ سَمِعَ بِهِ بِأَرْضٍ، فَلَا يُقْدِمَنَّ عَلَيْهِ، وَمَنْ كَانَ بِأَرْضٍ وَقَعَ بِهَا، فَلَا يَخْرُجْ فِرَارًا مِنْهُ”.(صحیح البخاری: رقم الحدیث 6974)
ترجمہ: حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وبائی بیماری (طاعون) کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: “یہ ایک عذاب ہے، یا فرمایا کہ ایک ایسی سزا ہے جس کے ذریعے سابقہ امتوں میں سے بعض کو عذاب دیا گیا۔ پھر اس کا کچھ اثر باقی رہ گیا، چنانچہ یہ کبھی ختم ہو جاتا ہے اور کبھی دوبارہ ظاہر ہو جاتا ہے۔ لہٰذا جو شخص کسی علاقے میں اس (وبا) کے پھیلنے کی خبر سنے، وہ وہاں نہ جائے، اور جو شخص ایسے علاقے میں موجود ہو جہاں یہ وبا پھیل جائے، وہ اس سے بھاگ کر وہاں سے نہ نکلے۔”
اس سے معلوم ہوا کہ شریعت نے توکل کے ساتھ ساتھ احتیاط اور ظاہری اسباب کو اختیار کرنے کی بھی تعلیم دی ہے۔
لہٰذا ان تمام احادیث میں کوئی تعارض نہیں، بلکہ ان میں نہایت حسین تطبیق پائی جاتی ہے، اور وہ یہ ہے کہ:
1. مسلمان کا عقیدہ یہ ہو کہ نفع و ضرر کا حقیقی مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے، کوئی بیماری اپنی ذات سے مؤثر نہیں۔
2. بیماریوں سے بچاؤ کے لیے مشروع اور عقلاً و طباً مفید احتیاطی تدابیر اختیار کرنا نہ صرف جائز بلکہ بعض حالات میں مطلوب اور ضروری بھی ہے۔
3. ہاتھ دھونا، صفائی کا اہتمام کرنا، وبا کے زمانے میں غیر ضروری اختلاط سے بچنا، ضرورت کے وقت منہ کو ڈھانپنا اور ماہرینِ فن کی معتبر ہدایات پر عمل کرنا، توکل کے خلاف نہیں، بلکہ اسباب کو اختیار کرنے کے قبیل سے ہے۔
4. احتیاط اور وہم میں فرق ہے۔ احتیاط یہ ہے کہ انسان معمول کے مطابق اسباب اختیار کرے، جبکہ وہم یہ ہے کہ انسان ہر چیز سے خوف زدہ ہو کر وساوس کا شکار ہو جائے اور اس کا ذہن ہر وقت اسی اندیشے میں مبتلا رہے کہ بیماری ضرور لگ جائے گی۔ شریعت نے پہلے کو اختیار کرنے اور دوسرے سے بچنے کی تعلیم دی ہے۔
5. اسی طرح صرف ظاہری اسباب پر اعتماد کرنا بھی درست نہیں، بلکہ اسباب اختیار کرنے کے ساتھ اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسا، دعا، اذکار اور اس سے عافیت کا سوال کرنا بھی مؤمن کا شیوہ ہے۔
پس اعتدال کی راہ یہی ہے کہ نہ تو احتیاطی تدابیر کو توکل کے منافی سمجھ کر بالکلیہ ترک کر دیا جائے اور نہ ہی ان اسباب کو مؤثرِ حقیقی سمجھ کر ان پر کامل اعتماد کر لیا جائے، بلکہ اسباب کو اختیار کرتے ہوئے دل کو اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ وابستہ رکھا جائے۔ یہی شریعت کی تعلیم اور احادیثِ مبارکہ میں وارد مختلف ارشادات کے درمیان صحیح تطبیق ہے۔
واللہ اعلم بالصوابدار الافتاءمرکز اھل السنۃ والجماعۃ سرگودھا، پاکستان

© Copyright 2025, All Rights Reserved