- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
عرض یہ ہے کہ کیا امام کو بطور تنخواہ عشر دے سکتے ہیں اسی طرح کھالیں وغیرہ بھی دینا درست ہے یا نہیں ؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مسئلہ کی چند صورتیں ممکن ہیں، ہرایک کی تفصیل مع حکم درج ذیل ہے:1۔ اگر امام کی تنخواہ مقرر نہ ہواور علاقے کے لوگ امامت کے بدلہ میں عشر وغیرہ دیتے ہیں توایسا کرنا جائز نہیں ، اس سے عشر ادا نہ ہوگا۔2۔ اگر عشر بطورِ تنخواہ کے دینے کی بات نہیں ہوئی، لیکن رواج یہی ہوکہ نماز پڑھانے کے عوض یہ چیز دی جاتی ہے تو یہ صورت بھی ناجائز ہے۔یعنی امامت کے عوض میں بطورِ شرط یا بطورِ عرف امام کو عشردینا جائز نہیں۔3۔ اگر امام کی تنخواہ مقرر ہو اور ماہانہ وظیفہ انہیں دیا جاتا ہو لیکن تنخواہ کی رقم امام کی ضروریات کے لیے ناکافی ہو، امام غریب ہو ،سید نہ ہوتو اس صورت میں امام کو تعاون کے طور پر عشر دیناجائز ہے، بلکہ نیزباعثِ اجر وثواب ہے۔4۔ اگر ایسا ہو کہ امام امامت اور متعلقہ خدمات سرانجام دیتاہو،اور اس سے امامت کے بدلہ میں عشر دینے کا معاہدہ نہ کیاہو، نیز وہاں کا عرف بھی یہ نہ ہو، اور امام ایساہوکہ لوگ عشر دیں یانہ دیں بہر صورت وہ امامت کرتاہو تو ایساامام اگر مستحق ہوتو اسے عشر دیاجاسکتاہے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved