• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

کالا لباس پہننا کیسا ہے؟

استفتاء

کالے کپڑے پہننا جائز ہے یا نہیں؟کچھ علماء سے سنا ہےکہ یہ جہنمیوں کا لباس ہےاور یہ فرعون کا لباس ہے۔ کیا یہ حقیقت ہے یا محض باتیں ہیں؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیاہ رنگ کا عمامہ اورسیاہ چادر استعمال فرمائی تھی مگر مکمل سیاہ لباس (شلواراور قمیص) کا استعمال آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں، تاہم سیاہ رنگ کا مکمل لباس استعمال کرنے پر کسی روایت میں ممانعت بھی وارد نہیں ہے، اس لیے کالا لباس بھی عام لباس کی طرح پہنا جا سکتا ہے، البتہ جن ایام یا مواقع میں کالا لباس پہننا غم اور وفات کی علامت یا اہل باطل کا شعار سمجھا جاتا ہو ، ان ایام اور مواقع میں کالا لباس پہننے سے اجتناب کرنا ضروری ہے۔
فرعون کا سیاہ لباس تھایا اہلِ جہنم کا لباس سیاہ ہو گا؟ اس بارے میں اہل السنت والجماعت کی کتب میں کوئی معتبر حوالہ سامنے نہیں آیا، البتہ شیعہ مصنف باقر مجلسی کی کتاب “حلیۃ المتقین” میں لکھا ہے کہ سیاہ لباس اہل جہنم کا لباس ہے،

مکمل عبارت حسبِ ذیل ہے:
” بہ سند معتبر از حضرت امیر المؤمنین علیہ السلام نقل شدہ است: شخصی از حضرت صادق علیہ السلام پرسید: آیا با کلاہ سیاہ نماز بکنم؟ فرمود: با آں نماز مکن! کہ لباسِ اہلِ جہنم است۔ از حضرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم نقل شدہ است: سیاہ مکروہ است؛ مگر در سہ چیز: موزہ، عمامہ و عبا۔ “(حِلیۃ المتقین: ص21 فصل 4 ۔ ناشر: کتاب خانہ ملّی ایران، محل نگہداری)ترجمہ: حضرت امیر المؤمنین علیہ السلام(حضرت علی رضی اللہ عنہ، از مترجم) سے معتبر سند کے ساتھ منقول ہے : ایک شخص نے حضرت صادق علیہ السلام سے پوچھا: کیا میں سیاہ ٹوپی پہن کر نماز پڑھ لیا کروں؟آپ نے فرمایا: سیاہ ٹوپی پہن کر نماز نہ پڑھو، کیوں کہ یہ (کالا لباس) جہنمیوں کا لباس ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا گیا ہے کہ سیاہ رنگ کی چیزوں کو استعمال کرنا مکروہ ہے، البتہ تین چیزیں اس سے مستثنیٰ ہیں، موزہ، عمامہ اور عَبا (چوغہ، جبّہ)۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved