- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
میں نے سنا ہے کہ اگر دو آدمیوں میں لڑائی ہو جائے تو صلح کرانے کے لیے جھوٹ بھی بولنا پڑے تو کوئی حرج نہیں۔ کیا یہ بات صحيح ہےاور حديث میں اس کا کوئى ذكر ہے؟ اگر ایسا ہے تو اس کا صحیح مطلب کیا ہے؟ وضاحت فرمائیں۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
لوگوں کے درمیان اختلافات کو دور کر کے باہمی معاملات کو سنوارنا بہت فضیلت اور ثواب کا کام ہے، فریقَین کے درمیان پیدا شدہ رنجشوں اور غلط فہمیوں کو دور کرنا شریعت کی نظر میں بہت اہمیت رکھتا ہے۔ اسی اہمیت کے پیشِ نظر شریعت نے اس بات کی اجازت دی ہے کہ اگر کبھی صلح کرانے میں ایسی نوبت پیش آ جائے جس میں حقیقت یا واقعہ کے خلاف کوئی بات کہنا ضروری ہو، اس کے بغیر کوئی چارہ نہ ہو تو صلح کے حصول کے لیے وہ بات کہہ دی جائے۔ حدیث پاک میں ہے،
حضرت امّ کلثوم بنت عقبہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :“لَيْسَ بِالْكَاذِبِ مَنْ أَصْلَحَ بَيْنَ النَّاسِ فَقَالَ خَيْرًا أَوْ نَمٰى خَيْرًا “(سنن الترمذی، حدیث نمبر 1938)ترجمہ: وہ شخص جھوٹا نہیں جو لوگوں کے درمیان معاملات کو سنوارے، (اس مقصد کے لیے ) وہ کوئی اچھی بات کہے یا اچھی بات منسوب کرے۔
اس حدیث پاک کی وجہ سے بعض علماء کرام کی رائے یہ ہے کہ صلح کرانے میں اگر صریح جھوٹ بھی بولنا پڑے تو اجازت ہے۔ لیکن اکثر علماء کرام کی رائے یہ ہے کہ اس موقع پہ واضح جھوٹ نہ بولا جائے بلکہ بات ایسے انداز میں کی جائے کہ سننے والا اس کا اور مفہوم مراد لے جب کہ کہنے والے کی مراد کچھ اور ہو، اس طرزِ تکلّم کو اصلاح میں “توریہ” کہتے ہیں۔ جیسے ہجرت کے موقع پہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سفر میں نکلے تو راستے میں ایک کافر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاش میں آ پہنچا ، لیکن وہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پہچانتا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں جانتا تھا۔ اس نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: اے ابوبکر!یہ آدمی کون ہے؟ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا، یہ آدمی مجھے راستہ دِکھاتا ہے۔ اس کافر نے یہ سمجھا کہ سفر میں راستہ کی راہنمائی کرنے والا ہے، جب کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی مراد یہ تھی کہ دین اور شریعت اور ہدایت کا راستہ دکھانے والا ہے۔
حضرت اقدس مولانا مفتی سعید احمد پالن پوری رحمہ اللہ حدیث مذکور کی تشریح میں تحریر فرماتے ہیں: “مگر عام علماء صریح جھوٹ کو جائز نہیں کہتے، صرف توریہ کی اجازت دیتے ہیں، اور حضرت گنگوہی قدّس سرّہ نے اس کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ اگر صریح جھوٹ کی اجازت دے دی جائے تو عوام کے دِلوں سے جھوٹ کی نفرت ختم ہو جائے گی، اور وہ جھوٹ بولنے پر جری ہو جائیں گے۔ اس لیے عام علماء نے ان حدیثوں میں کذب سے توریہ مراد لیا ہے”۔
حضرت مفتی صاحب رحمہ اللہ چند سطور بعد مزید لکھتے ہیں: “یہی حال لوگوں کے درمیان مصالحت کرانے کے لیے کوئی خیر کی بات کہنے کایا فریقِ مخالف کی طرف کوئی خیر کی بات منسوب کرنے کا ہے، مثلاً کہا کہ: آپ آتش فشاں ہورہے ہیں اور وہ تو آپ کے لیے دعا کرتا ہے، اور اس(کہنے والے کی) کی مراد یہ ہو کہ وہ عام مسلمانوں کے لیے دعا کرتا ہے جس میں یہ بندہ بھی شامل ہے، پس اس میں غلط بات کیا ہوئی؟ پس اس حکمت سے جو حضرت گنگوہی قدّس سرّہ نے بیان فرمائی ہےبات وہی راجح معلوم ہوتی ہے جو دُرّ مختار میں ہے کہ صریح جھوٹ بولنا تو جائز نہیں، مگر اس طرح بات کرنا کہ نہ سانپ بچے نہ لاٹھی ٹوٹے، جائز ہے۔ ( تحفۃ الالمعی شرح سنن الترمذی، ج: 5 ص:285)واللہ اعلم بالصوابدارالافتاء مرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved