- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
ایک مماتی نے کہا ہے کہ شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا رحمہ اللہ نے جب فضائلِ اعمال لکھی تھی تو حضرت جی مولانا محمد الیاس رحمہ اللہ نے ان سے کہا تھا کہ اس میں سے”فضائلِ درود” نکال دو ، تو آپ نے فضائلِ درود کا حصہ نکال دیا تھا۔ اس بات کی کیا حقیقت ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
حضرت جی مولانا محمد الیاس رحمہ اللہ اور شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا رحمہ اللہ کی طرف سوال میں جو بات منسوب کی گئی ہے یہ محض الزام اور تہمت ہے اس کی کوئی حقیقت نہیں۔ شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا رحمہ اللہ نے تبلیغی نصاب (موجودہ فضائل اعمال)کے نام سےجو مجموعہ رقم فرمایا تھااس میں فضائل درود باقاعدہ اس کا حصہ تھا، بعد میں بھی رہا، بلکہ موجودہ دور میں بھی تبلیغی نصاب کے ایسے نسخے موجود ہیں جن میں فضائل درود شامل ہے۔بعض تاجروں نے درود ِ پاک کی فضیلت کے پیشِ نظر الگ سے چھاپنے کا اہتمام اس لیے کیا تاکہ خریدنے اور پڑھنے میں سہولت رہے۔ورنہ صرف درودِ پاک کے لیے پوری کتاب کو خریدنا پڑتا، اس میں تو کوئی اعتراض والی بات ہی نہیں۔ایسا تو بہت ساری کتب میں ہوتا ہے کہ اس میں درج کوئی خاص مضمون افادۂ عام کے لیے الگ سے چھاپ دیا جاتا ہے۔خلاصہ یہ ہے کہ اس کام کا حضرت جی مولانا محمد الیاس رحمہ اللہ اور شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا رحمہ اللہ سے دور کا بھی تعلق نہیں۔ معرضین کا اعتراض جہالت یا ضد کی بنیاد پر ہے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved