• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

صحیحین کی صحت کا معنی ومفہوم

استفتاء

ایک زمانہ آپ کی خدماتِ دینیہ کا معترف ہے۔ اللہ تعالیٰ مزید ترقیوں سے نوازے ۔بندہ ایک طالب علم ہے۔ طالبعلمانہ اشکال پیش آ گیا ہے جو بے سکونی کا باعث بن گیاہے، اس لئے اس بے وقت آپ کومیسج کر رہا ہوں ، امید ہے کہ وقت نکال اس اشکال کا جواب مرحمت فرما ویں گے ۔اشکال یہ ہے کہ اصحاب صحاح خصوصاً شیخین نےاپنی کتب میں ”صحتِ سند ومتن“ دونوں کا التزام کیا ہے یا فقط صحتِ اسنادکا؟اگر امر اول ملحوظ ہے تو پھر سوال یہ ہے کہ ہم بخاری ومسلم میں ایسی احادیث پاتے ہیں جو متناً مضطرب ہیں۔ مثلاً حدیثِ تیمم میں محلِ تیمم کی حدیث یاسرؓ ،کیونکہ بعض روایات میں ”کفین“ ، بعض میں ”ذراعین“ بعض میں ”آباط“ اور بعض میں ”مناکب“ کا لفظ ہے۔ کفین اور آباط کے الفاظ والی احادیث کو تو علامہ البانی نے بھی صحیح قرار دیا ہے۔ اضطراب کو محدثین علتِ قادحہ شمار کرتے ہیں، اس اصول سے تو یہ حدیث ضعیف ہوئی جبکہ ہم قائل ہیں کہ بخاری شریف میں سب احادیثِ مرفوعہ صحیح ہیں ۔اور اگر امر ثانی ہے تو پھر سوال یہ ہے کہ حدیث تو سند اورمتن دونوں کے مجموعہ کا نام ہے اور محدثین کے نزدیک تو قاعدہ ہے کہ صحتِ سند؛ صحتِ متن کو مستلزم نہیں ہے۔ تو پھر ہم فقط سند کے صحیح ہونے سے اس حدیث کو کیسے صحیح قرار دے سکتے ہیں؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

واضح رہے کہ حدیث مبارک دو چیزوں کے مجموعے کا نام ہے:
اول …. سند ، دوم…متنحدیث کے مقبول ہونے کے لئے سند اور متن دونوں کی صحت ضروری ہے ۔ محدثین کا مقصدحفاظت حدیث ہے اور مجتہدین کی محنت وسعی کا مقصود استخراج احکام ہے۔ اس لیے محدث سند کی صحت و ضعف سے بحث کرتا ہے اور مجتہدمتن کے قابل عمل ہونے یا نہ ہونے سے بحث کرتا ہے ۔چنانچہ محدث جب کسی حدیث کے بارے کہے”ھذا حدیث صحيح “ تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس روایت کی سند صحیح ہے اور جب محد ث کہے”ھذاحدیث ضعيف“ تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ سند کمزور ہے ۔اس تمہید کے بعد عرض ہے کہ اصحاب صحیحین نے اپنی کتب میں سند اور متن دونوں کی صحت کا التزام کیا ہے ۔لیکن التزام صحت کے متعلق یہ سمجھنا ضروری ہے کہ …[1]: صحت کا یہ حکم کتاب کے احوال اور موضوع کے اعتبار سے ہے ۔موضوع کتاب ان کتب کے نام سے ظاہر ہے ۔صحیح البخاری کا مکمل نام یہ ہے:”الجامع المسند الصحیح المختصر من امور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وسننہ وایامہ“کتاب کا موضوع احادیث مسندہ ہیں ۔ اب ”صحیح البخاری“ کہنے کا معنی یہ ہو گا کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی کتاب میں مسند احادیث کی صحت کا التزام کیا ہے ۔باقی رہے شواہدات، متابعات اور احادیث معلَّقہ تو ان میں یہ التزام ملحوظ نہیں رکھا۔موضوع کے اعتبار سے یہ کتاب صحیح ہے ای الصحیح المسند .[2]: ائمہ محدثین اور شارحینِ بخاری نے امام بخاری رحمہ اللہ کی شروط یہ لکھی ہیں کہ آپ جو روایت لاتے ہیں اس کی سند متصل ہوتی ہے ،رواتِ حدیث مسلمان ،صادق،غیر مدلس،اور غیر مختلط ہوتے ہیں ۔ عادل ،صادق ،سلیم الذہن اور قلیل الوہم ہوتے ہیں ۔نیز رواتِ بخاری صحیح العقیدہ ہوتے ہیں۔ہدی الساری لابن حجر: ص9اگر صحیحین میں کسی مدلس کی روایت آجائے اور کسی دوسرے طریق میں اس کے سماع کی تصریح نہ ہو تو شیخین اسے اپنی کتاب میں ذکر نہیں کرتے۔ہدی الساری: ص449اگر سند کے کسی راوی پر کچھ کلام ہو اور وہ روایت کسی دوسرے طریق سے مروی ہو کر اس کلام کی تلافی کردے تو بھی یہ روایت شرط بخاری کے تحت داخل ہوجاتی ہے۔فتح الباری: ج2ص635[3]: جواضطراب آپ نے بیان کیا ہے وہ اضطراب نہیں ہے کیونکہ اصول حدیث کے مطابق صحت حدیث کے لئے وہ اضطراب قادح ہے جس کی توجیہ یاتطبیق ممکن نہ ہو جبکہ حدیث عمار میں تطبیق ممکن ہے۔ وہ اس طرح کہ اس حدیث مبارک میں موجود لفظ ”ثم مسح بھما وجھہ وکفیہ“کے متعلق شارحینِ حدیث نے واضح لکھا ہے کہ یہ ”مرفقین“ کے بالمقابل نہیں بلکہ اس واقعہ میں موجود”تمعک“(لوٹ پوٹ ہونے) کے مقابلہ میں تیمم کا اجمالی نقشہ بتانے پر محمول ہے۔دیکھئے بذل المجہود: ج1ص193،فتح الملہم: ج1ص495،معارف السنن: ج1ص477لہذا یہ حدیث متناً مضطرب ہی نہیں ،پس متن کی عدم صحت کا خدشہ ختم ہو گیا ۔تنبیہ:
1: صحیحین کی اکثر احادیث صحیح ہیں البتہ بعض احادیث پر سند کے اعتبار سے ،بعض پر متن کے اعتبار سے کلام ہے جن کے جوابات حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے ہدی الساری مقدمہ فتح الباری میں اور امام ابو زکریا یحی بن شرف النووی رحمہ اللہ نے شرح مسلم میں دیے ہیں ۔حافظ صاحب رحمہ اللہ نے ان میں سے بعض اعتراضات کو تسلیم بھی کیا ہے ۔اب ان کتب میں مذکور احادیث کے صحیح ہونے کا مطلب یہ ہو گا کہ مجموعی اعتبار سے احادیث صحیح ہیں متکلَّم فیہ احادیث نہ ہونے کے برابر ہیں ۔2: بسااوقات حدیث مبارک کی سند کے کسی راوی پر کسی وجہ سے کلام ہوتا ہے لیکن صاحب کتاب کے ہاں وہ وجہ جرح کا سبب نہیں ہوتی ۔علامہ محی الدین ابو زکریا یحییٰ بن شرف النووی (ت676ھ) فرماتے ہیں:عاب عائبون مسلما بروايته في صحيحه عن جماعة من الضعفاء…. ولا عيب عليه في ذلك بل جوابه من أوجه….أحدها أن يكون ذلك فيمن هو ضعيف عند غيره ثقة عنده.مقدمہ شرح صحیح مسلم للنووی: ص24ترجمہ: بعض حضرات نے امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ پر یہ اعتراض کیا ہے کہ انہوں نے صحیح مسلم میں ضعیف راویوں سے روایات لی ہیں۔ یہ کوئی اعتراض کی بات نہیں ہے بلکہ اس کے کئی جواب ہوسکتے ہیں ایک جواب یہ ہے کہ ہو سکتا ہے جو راوی دیگر محدثین کے ہاں ضعیف ہے وہ امام مسلم کے ہاں صحیح ہو۔3: بسااوقات صحیحین میں مذکور روایت اضطراب سے خالی ہوتی ہے ۔اس میں جو اضطراب یاضعف ہوتا ہے وہ کسی اور روایت کی وجہ سے ہوتا ہے جو صحیحین میں نہیں ہوتی ۔باقی یہ اصول کہ صحت سند ،صحت متن کو مستلزم نہیں اپنی جگہ درست ہے لیکن اس سے کہا ں لازم آتا ہے کہ اگر سند صحیح ہے تو متن لازماً غیر صحیح ہوگا ؟امور بالاکے پیش نظر درج ذیل نتیجہ اخذ ہوتا ہے :
1. صحیحین کی صحت سند اور متن دونوں اعتبار سے ہے۔2. اضطراب فی المتن کا اشکال بخاری ومسلم پر بالعموم لاگو نہیں ہوتا کیونکہ اضطراب قادح وہ ہوتا ہے جس کی توجیہ وتطبیق ممکن نہ ہو اور یہاں ایسا نہیں ۔3. سند کی صحت سے متن کا ضعف ثابت نہیں ہوتا ۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved