- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
سیرتِ طیبہ کی کتابوں میں فترتِ وحی کا لفظ آتا ہے، میں نے یہ دریافت کرنا ہے کہ اس کا معنی کیا ہےاور اس سے مراد کیا ہے؟ راہنمائی فرمائیے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے زندہ آسمان پر اٹھائے جانے کے تقریباً پونے چھ سو سال بعد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرّمہ کی سرزمین پہ حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا کے بطن سے پیدا ہوئے، یہ جو پونے چھ سو سال کا زمانہ ہے اسے “فترتِ وحی” کا زمانہ کہتے ہیں۔فترتِ وحی کا معنی یہ ہے کہ اس ساری مدت میں وحی کا سلسلہ بند رہا، کیوں کہ کرہ ارض پہ کوئی بھی اللہ کا نبی موجود نہیں تھا، حضرت عیسیٰ علیہ السلام حیات تھے مگر آپ زمین پہ نہیں تھے بلکہ آسمان پہ تھے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved