- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
کیا امام شافعی رحمہ الله تصوف کے مخالف تهے؟ کیوں کہ ان کا یہ ایک قول غیر مقلدین حضرات شیئر کر رہے ہیں :
روى البيهقی في مناقب الشافعي أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال: سمعت أبا محمد جعفر بن محمد بن الحارث يقول: سمعت أبا عبد الله: الحسين بن محمد بن بحر يقول: سمعت يونس بن عبد الله الأعلى يقول: سمعت الشافعي يقول: لو أن رجلاً تصوَّف من أول النهار لم يأت عليه الظهر إلا وجدته أحمق .کیا یہ قول امام شافعی رحمہ اللہ کا ہے؟ اگر ہے تو اس کا صحیح مفہوم کیا ہے؟ اس قول سے امام شافعی رحمہ اللہ واقعتاً مطلق تصوف کا رد کرنا چاہتے ہیں جیسا کہ غیر مقلدین ثابت کرنا چاہ رہے ہیں، یا امام شافعی رحمہ اللہ کی مراد کچھ اور ہے؟ براہِ کرم حقیقت سے آگاہ فرمائیں ؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
سوال میں ذکر کردہ عبارت کتاب ” مناقب الشافعی رحمہ اللہ” میں موجود ہے، لیکن اس عبارت کو تصوف اور صوفیاء کرام رحمہم اللہ کے رد میں پیش کرنا حقیقت اور سچائی کے سراسر منافی ہے۔ کیوں کہ امام محمد بن ادریس الشافعی رحمہ اللہ کے اس قول کا تعلق بعض ان افراد کے ساتھ ہےجنہوں نے بظاہر تصوف اختیار کر رکھا تھا مگر تصوف کی حقیقت اور روح ان میں موجود نہ تھی۔ وہ نام کے صوفی تھے، کام کے صوفی نہ تھے۔ لہٰذا اس قول کا خود ساختہ مفہوم مراد لے کر اسے حقیقی تصوف اور کامل صوفیاء کرام رحمہم اللہ پر چسپاں کرنا قطعاً درست نہیں۔
ایسےصوفیاء کرام رحمہم اللہ جن میں تصوف کی روح موجود تھی ، وہ روشن ضمیر اور صاحبِ نسبت تھے، تصوف کے تقاضوں پر عمل پیرا ہونے کی وجہ سے روحانی اعتبار سے مضبوط اور معرفتِ الٰہی کی دولت سے مالامال تھےتو امام شافعی رحمہ اللہ بذاتِ خود ایسے نیک بخت اشخاص کی دل سے قدردانی فرماتے تھے ، ان کے ساتھ میل جول بھی رکھتے تھے اور ان میں موجود اچھی عادات و عمدہ صفات کو اپناتے بھی تھے۔
سوال میں مذکور عبارت کا درست اور مبنی بر حقیقت مفہوم یہی ہے جو اوپر تحریر کر دیا ہے اور یہی مفہوم ان چند عبارات کا خلاصہ ہے جو “مناقب الشافعی رحمہ اللہ” میں بعض لوگوں کی طرف سے پیش کیے جانے والے قول کے تحت درج ہیں۔ ذیل میں ان عبارات کو ترجمہ و مفہوم سمیت درج کیا جاتا ہے تاکہ ایک انصاف پسند آدمی پر یہ حقیقت عیاں ہو جائے کہ امام شافعی رحمہ اللہ کا درج بالا قول بعض لوگوں کی طرف سے کس قدر غلط رنگ میں پیش کیا گیا ہے۔
(1) کتاب “مناقب الشافعی رحمہ اللہ ” کے مصنف امام ابو بكر احمد بن الحسين بن علی البيہقی رحمہ اللہ نے امام شافعی رحمہ اللہ کے سوال میں مذکور قول کی وضاحت ان الفاظ میں فرمائی ہے ۔
“قلت: وإنما أراد به من دخل في الصوفية واكتفى بالاسم عن المعنى، وبالرسم عن الحقيقة، وقعد عن الكسب، وألقى مؤنته على المسلمين، ولم يبال بهم، ولم يرع حقوقهم، ولم يشتغل بعلم ولا عبادة”
ترجمہ و مفہوم:
“میں کہتا ہوں کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے اپنے ان اقوال سے ایسا بندہ مراد لیا ہے جو نام نہاد صوفی ہو، تصوف کی حقیقت اور باطنی علوم و معارف سے محروم ہو۔ تصوف اختیار کرنے کابنیادی مقصد کمائی او ر محنت سے جان چھڑانا ہو اور اپنے اخراجات کا بوجھ مسلمانوں کے بیت المال پر ڈال دیا ہو۔ ایسا صوفی کہ نہ تو علم و عبادت میں منہمک رہ کر حقوق اللہ کی ادائیگی کا اہتمام کرتا ہو اور نہ ہی مخلوق کے حقوق و فرائض کو نبھانے کی پروا کرتا ہو۔ “
(2) امام بیہقی رحمہ اللہ نام نہاد صوفی سے متعلق امام شافعی رحمہ اللہ کا ایک قول نقل کرنے کے بعد مزید تحریر فرماتے ہیں:
“وإنما أراد به ذمّ من يكون منهم بهذه الصفة، فأمّا من صفا منهم في الصّوفية بصدق التوكل على الله عز وجل، واستعمال آداب الشريعة في معاملته مع الله عز وجل في العبادة، ومعاملته مع الناس في العشرة – فقد حُكِيَ عنه أنه عاشرهم وأخذ عنهم”
ترجمہ و مفہوم:
امام شافعی رحمہ اللہ کے اس قول سےمراد وہ لوگ ہیں جو ان خامیوں میں مبتلاء ہوں، ورنہ ایسے صوفی جو باطنی طور پر پاکیزہ ہوں ، اللہ تعالیٰ کی ذاتِ عالیہ پر کامل توکّل رکھنے والے ہوں، اللہ تعالیٰ کی عبادت و ریاضت اور لوگوں کے ساتھ باہمی معاملات اور معاشرت میں شرعی احکام و آداب کی رعایت رکھنے والے ہوں تو امام شافعی رحمہ اللہ نے باقاعدہ ایسے لوگوں کے ساتھ میل جول رکھا اور ان سے باطنی فیض لیا۔
(3) امام شافعی رحمہ اللہ کے بیٹے محمد بن محمد رحمہ اللہ کہتے ہیں:
“سمعت أبي يقول: صحبت الصوفية عشر سنين “
ترجمہ و مفہوم: میں نے اپنے والد گرامی سے سنا، آپ نے فرمایا: میں نے دس سال صوفیاء کرام کی صحبت اختیار کی۔
(4) امام بیہقی رحمہ اللہ اس کے بعد لکھتے ہیں:
“وبلغني أنه رأى مِنْ بعض مَنْ تسمّى باسم الصّوفية ما كَرِه، فخرج قوله في ذمّ أمثاله”
ترجمہ و مفہوم:
“مجھے یہ بات (باوثوق ذرائع سے) پہنچی ہے کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے (اپنے زمانے کے) چند نام نہاد صوفیوں میں بعض ناپسندیدہ عادات دیکھیں تو ان جیسے لوگوں کی مذمّت میں یہ اقوال بیان فرمائے۔”
(مناقب الشافعی رحمہ اللہ، ج2 ص206+207)
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
مرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved