- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
آپ کا عقیدہ طحاویہ کا سبق “خَلَقَ الْخَلْقَ بِعِلْمِہ” سنا ، آپ نے فرمایا کہ تقدیر علم الٰہی کا نام ہے امر الٰہی کا نام نہیں ، پھر یہ بھی فرمایا کہ لوگ تقدیر کو اللہ تعالی ٰ کے فیصلے سمجھتے ہیں حالانکہ ایسا نہیں ،جن کاموں کا تعلق انسان کے کرنے نہ کرنے سے ہے اس مسئلہ میں آپ کی بات بہت واضح تھی۔ دریافت یہ کرنا ہے کہ جو کام انسان کے بس سے باہر ہیں، مثلاً: پیدا ہونا ،مرنا،قیامت،بارش وغیرہ کیا ان کے لیے بھی ہم یہ کہیں گے کہ یہ امر الٰہی نہیں، حالانکہ ان کا امر الٰہی ہونا تو بدیہی معلوم ہو رہا ہے، بس یہ اشکال اور الجھن اگر دور فرما دیں تو نوازش ہو گی ۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
تقدیر کا درست مفہوم میری کتاب “شرح عقیدہ طحاویہ صفحہ 133” پر لکھ دیا گیا ہے، جو حسبِ ذیل ہے، اس سے سب اشکالات ختم ہو جائیں گے۔ ملاحظہ کیجیے:“اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا کہ وہ بندے کو اختیار دیں گے تو بندہ اختیار سے یہ کام کرے گا یہ علم الٰہی ہوا ،اور اللہ تعالیٰ نے لکھ دیا کہ بندہ یہ کام کرےگا یہ امر الٰہی ہوا۔ اب علم الٰہی ؛امر الٰہی کے خلاف ہو یا امر الٰہی؛ علم الٰہی کے خلاف ہو ایسا نہیں ہو سکتا۔ تو تقدیر صرف علم الٰہی کا نام نہیں بلکہ تقدیر علم الٰہی اور امر الٰہی کے مجموعے کا نام ہے، اور بندہ مجبور محض ہو ایسا بھی نہیں، کیوں کہ بندہ اپنے اختیار سے کام کر رہا ہے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved