• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

ہڈی سے بنے برتن استعمال کرنا کیسا ہے؟

استفتاء

بازار میں ہڈی سے بنے برتن ملتے ہیں لیکن پتا نہیں کن جانوروں کی ہڈی ہوتی ہیں، لہٰذا ایسے برتنوں کا استعمال کرنا درست ہے یا نہیں؟ براہِ کرم راہنمائی فرمائیں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

اس بارے میں تفصیل حسبِ ذیل ہے۔
(1) اس بات کا یقین یا غالب گمان ہو کہ یہ برتن کسی انسان یا خنزیر کی ہڈی سے بنائے گئے ہیں تب ان کا استعمال بالکل جائز نہیں ۔ کیوں کہ انسان کی عظمت و شرافت اور تکریم و تعظیم کی بناء پر اور خنزیر کی خساست و رذالت اور دناءت و قباحت کی وجہ سے ان کے اعضاء میں سے کسی عضو سے انتفاع جائز نہیں۔
(2) انسان یا خنزیر کی ہڈیوں کا یقین یا غالب گمان نہ ہو بلکہ محض شبہ ہو تومحض شبہ کی وجہ سے ان برتنوں کا استعمال ناجائز نہ ہو گا۔ البتہ شبہ سے بچتے ہوئے استعمال نہ کرنا زیادہ بہتر ہے۔
(3) اس بات کا یقین یا غالب گمان   ہو کہ انسان یا خنزیر کی ہڈیوں  کے نہیں، باقی  اس بات میں شک ہو کہ کسی حلال  جانور کی ہڈیوں سے بنائے   گئے ہیں یا حرام جانور کی ہڈیوں سے،  تو  بلا کراہت استعمال کر سکتے ہیں۔  کیوں کہ فقہاء کرام رحمہم اللہ کی صراحت کے مطابق تمام جانوروں(علاوہ خنزیر) کی  ہڈیاں پاک ہیں، خواہ ان کا گوشت کھایا جاتا ہو یا نہ کھایا جاتا ہو، خواہ وہ جانور مذبوح ہوں  یا غیر مذبوح ہوں۔   لہٰذا ان کی ہڈیوں سے تیار شدہ برتن ، دوا یا کوئی دوسری چیز استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
علامہ زین الدین  بن ابراھیم بن محمد المعروف ابنِ نجیم الحنفی رحمہ اللہ  ) ت: 970ھ ( تحریر فرماتے ہیں ۔
قال مُحَمَّدٌ في السِّيَرِ الْكَبِيرِ لَا بَأْسَ بِالتَّدَاوِي بِالْعَظْمِ إذَا كان عَظْمَ شَاةٍ أو بَقَرٍ أو بَعِيرٍ أو فَرَسٍ أو غَيْرِهِ من الدَّوَابِّ إلَّا عَظْمَ الْخِنْزِيرِ وَالْآدَمِيِّ فإنه لَا يُمْكِنُ التَّدَاوِي بِهِمَا  وَلَا فَرْقَ فِيمَا يَجُوزُ بين أَنْ تَكُونَ ذَكِيًّا أو مَيِّتًا رَطْبًا أو يَابِسًا۔
(البحرائق: ج8 ص 376کتاب الکراہیۃ، فصل فی البیع)
ترجمہ: امام محمد (بن حسن الشیبانی رحمہ اللہ) السِّیر الکبیر میں فرماتے ہیں:
ہڈی کو بطور دوا استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، خواہ وہ ہڈی بکری کی ہو، گائے کی ہو، اونٹ کی ہو، گھوڑے کی ہو یا ان کے علاوہ کے دیگر کسی جانور کی ہو۔ ہاں البتہ انسان اور خنزیر کی ہڈی نہ ہو، کیوں کہ ان دونوں کی ہڈی کو  بطور علاج استعمال کرنا ممکن نہیں(جائز نہیں)۔ اور وہ  ہڈی خواہ مذبوح جانور کی ہو یا غیر مذبوح جانور کی، خواہ وہ ہڈی تَر ہو یا خشک، ان تمام کے استعمال کے جواز میں کوئی فرق نہیں۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
مرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved