• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

سجدہ تلاوت واجب ہے یا سنت؟

استفتاء

ہمارے ہاں سجدہ تلاوت واجب ہے تو اس کی دلیل کیا ہے ؟غیر مقلدین حضرات سجدہ تلاوت کو سنت کہتے ہیں اس پر یہ حدیث بھی پیش کرتے ہیں کہ ایک بار نماز جمعہ کے موقع پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آیت سجدہ کی تلاوت کی مگر سجدہ تلاوت نہیں کیا، اسی طرح یہ لوگ سجدہ تلاوت کی ادائیگی کے لیے طہارت بھی ضروری قرار نہیں دیتے ، اس حوالے سے راہنمائی فرمائیں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

آپ کے سوال میں سجدہ  تلاوت سے متعلق  تین چیزیں دریافت  کی گئی ہیں۔
:1 سجدہ تلاوت کی حیثیت  کیاہے؟
:2 فریق مخالف کی دلیل کا جواب کیاہے؟
:3 سجدہ تلاوت کی ادائیگی کیلئے  طہارت ضروری ہے یا نہیں؟
ذیل میں تینوں کا جواب  ترتیب  دار  درج کیا جاتا ہے۔
(1) اہل السنۃ والجماعۃ احناف  دیوبند  کے نزدیک  سجدہ  تلاوت  کی حیثیت  واجب کی ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  اور صحابہ کرام  رضی اللہ عنہم  سجدہ تلاوت  ادا کرنے  کا اہتمام  فرمایا کرتے  تھے۔اس پر متعدد   احادیث  وآثار موجود ہیں۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ  {ت 73ھ}فرماتے ہیں :
كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ السَّجْدَةَ وَنَحْنُ عِنْدَهُ فَيَسْجُدُ وَنَسْجُدُ مَعَهُ فَنَزْدَحِمُ حَتَّى مَا يَجِدُ أَحَدُنَا لِجَبْهَتِهِ مَوْضِعًا يَسْجُدُ عَلَيْه
(صحیح البخاری للامام محمد بن اسماعیل البخاری رحمہ اللہ ،ت:256ھ ،حدیث نمبر:1076)
ترجمہ:
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  ہماری {صحابہ کرام کی} موجودگی  میں آیت سجدہ  تلاوت فرمایا کرتے تو آپ  سجدہ  تلاوت  ادا کرتے،ہم بھی  آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کے ساتھ  سجدہ کرتے،اس سجدہ  تلاوت کی  ادائیگی  میں ہمارا اس قدر  ہجوم ہوجاتا کہ بسا اوقات  ہم میں سے کسی {صحابہ} کو زمین پر اتنی جگہ  بھی نہ ملتی  کہ وہ اس  پر اپنی  پیشانی  رکھ کر سجدہ  کرسکے۔
حضرت ابورافع المدنی نفیع بن رافع  الصائغ رحمہ اللہ  فرماتے ہیں  :
صَلَّيْتُ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ الْعَتَمَةَ فَقَرَأَ إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ فَسَجَدَ فَقُلْتُ مَا هَذِهِ قَالَ سَجَدْتُ بِهَا خَلْفَ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا أَزَالُ أَسْجُدُ فِيهَا حَتَّى أَلْقَاهُ
(صحیح البخاری للامام محمد بن اسماعیل البخاری رحمہ اللہ ،ت:256ھ ،حدیث نمبر:1078)
ترجمہ:
میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ  عشاء  کی نماز  پڑھی،نماز میں آپ رضی اللہ عنہ نے سورۃ الانشقاق {اذاالسماءانشقت} کی تلاوت فرمائی تو سجدہ تلاوت  ادا کیا۔میں نے {نماز کے بعد}آپ سے گزارش  کی،یہ کیا ہے؟{  یہ سجدہ تلاوت  آپ نے کیوں کیا؟} حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ  نے فرمایا : میں نے ابوالقاسم  صلی اللہ   علیہ وسلم  کی اقتدا میں اس آیتِ سجدہ پر سجدہ کیاتو اب ہمیشہ میں سجدہ تلاوت کرتا رہوں گا یہاں تک کہ   ابوالقاسم  صلی اللہ   علیہ وسلم  سے جاملوں ، مطلب وفات  تک  سجدہ  تلاوت  کرتا رہوں  گا کبھی ترک نہیں کروں گا۔مذکورہ  دونوں احادیث  مبارکہ  سے سجدہ  تلاوت کا وجوب صاف  معلوم ہورہا ہے۔
(2) جولوگ سجدہ تلاوت  کے وجوب  کے قائل نہیں انہوں نے  جو روایت  پیش کی ہے وہ صحیح  البخاری  میں  ان الفاظ کے ساتھ موجود ہے:
 “قَالَ أَبُو بَكْرٍ وَكَانَ رَبِيعَةُ مِنْ خِيَارِ النَّاسِ عَمَّا حَضَرَ رَبِيعَةُ مِنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَرَأَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ عَلَى الْمِنْبَرِ بِسُورَةِ النَّحْلِ حَتَّى إِذَا جَاءَ السَّجْدَةَ نَزَلَ فَسَجَدَ وَسَجَدَ النَّاسُ حَتَّى إِذَا كَانَتْ الْجُمُعَةُ الْقَابِلَةُ قَرَأَ بِهَا حَتَّى إِذَا جَاءَ السَّجْدَةَ قَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا نَمُرُّ بِالسُّجُودِ فَمَنْ سَجَدَ فَقَدْ أَصَابَ وَمَنْ لَمْ يَسْجُدْ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ وَلَمْ يَسْجُدْ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ * وَزَادَ نَافِعٌ عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَفْرِضْ السُّجُودَ إِلَّا أَنْ نَشَاءَ”
(صحیح البخاری لامام محمد بن اسماعیل البخاری رحمہ اللہ ، ت:256ھ، حدیث نمبر:1077 )
ترجمہ:  حضرت ابو بکر بن ابی ملیکہ فرماتے ہیں کہ ربیعہ(بن عبداللہ بن الھُدیر التیمی) رحمہ اللہ بہت اچھے انسانوں  میں سے تھے۔آپ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی مجلس میں پیش آنے والا ایک چشم دید  واقعہ بیان کیاکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جمعہ کے دن  منبر پر سورۃ النحل پڑھی،جب آیتِ سجدہ آئی تو  منبر سے نیچے اتر کر سجدہ تلاوت ادا کیا، سننے والے افراد نے بھی سجدہ کیا۔ آئندہ جمعہ کو دوبارہ سورۃ النحل پڑھی، جب آیتِ سجدہ پر پہنچے تو فرمایا: “ہم سجدہ کی آیت تلاوت کر جاتے ہیں اگر کوئی سجدہ کرے تو بہتر ورنہ  اس پر کوئی گناہ نہیں، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے(اس موقع پر) سجدہ تلاوت نہ کیا۔  حضرت نافع المدنی رحمہ اللہ نے   حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل کیا کہ اللہ تعالیٰ نے سجدہ تلاوت فرض نہیں کیا، ہاں اگر ہم چاہیں تو سجدہ تلاوت کریں گے “۔
حدیث  مذکور کے تحت شارح بخاری علامہ امام بدرالدین محمود بن احمد العینی رحمہ اللہ(ت:855ھ) نے جو  تشریح فرمائی ہے اس کا خلاصہ یہ ہے :
(1)حضرت عمر رضی اللہ عنہ   کے نزدیک بھی سجدہ تلاوت کی حیثیت وجوب یا کم ازکم سنت مؤکّدہ  کی تھی اور سنت مؤکدہ بھی درجہ میں واجب کے قریب ہے، اس کی دلیل حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا پہلے جمعہ کو منبر سے اتر کر سجدہ ادا کرنا ہے۔ 
(2)   دوسرے جمعہ کو اس موقع پر  سجدہ نہ کرنا یہ سجدہ تلاوت کےوجوب کے منافی نہیں، کیوں کہ سجدہ  تلاوت اگرچہ  واجب ہے مگر اس کی ادائیگی فوراً واجب نہیں،یعنی ایسا نہیں کہ تاخیر کی صورت  میں گناہ ہو، بلکہ کسی عذر یا عارض کی  وجہ سے بعد  میں سجدہ  تلاوت  ادا کرلیا جائے تب بھی  درست  ہے۔ 
(3)حضرت  عمر رضی اللہ عنہ نے دوسرے جمعہ کو فوراً سجدہ تلاوت ادا نہیں فرمایا، اس میں دو احتمال ہیں،  ایک  یہ ہے کہ  اس بات کی طرف اشارہ کرنا مقصود تھا کہ سجدہ تلاوت کی ادائیگی فوراً واجب نہیں،  دوسرا یہ کہ آپ رضی اللہ عنہ نے کسی عذر یا عارض کی وجہ سے ایسا کیا ورنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا عام معمول سجدہ تلاوت ادا فرمانے کا تھا۔
(عمدۃ القاری : ج5 ص:362 طبع دارالفکر ) 
فائدہ: اس مفہوم  کو مراد لینے  میں سجدہ  تلاوت  سے متعلق  تمام احادیث وآثار میں تطبیق ہوجاتی ہے۔سب پر عمل ہوجاتا ہے کسی کو ترک نہیں کرنا پڑتا۔
(3) سجدہ تلاوت کی ادائیگی کے لیے  طہارت شرط ہے بغیر طہارت  سجدہ تلاوت  ادا کرنا  جائزنہیں۔امام حافظ ابوبکر احمد بن  حسین  بن علی  البیہقی  رحمہ اللہ {ت 458ھ} نے حضرت  عبداللہ  بن عمر رضی اللہ عنہ  کی یہ حدیث  نقل فرمائی  ہے۔آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
“لَایَسْجُدُ الرَّجَلُ  اِلَّا وَھُوَ طَاہِر”1
(السنن الکبریٰ للبہیقی  ج2 ص 325)
ترجمہ:
آدمی طہارت  ہی کی حالت  میں سجدہ  کرے۔ (سجدہ  بغیر  طہارت  کے جائز نہیں)
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء 
مرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved