• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

مختلف ملبوسات کی خرید وفروخت کی ایک صورت کا حکم

استفتاء

میں یورپ سے کپڑوں کا کنٹینر خریدتا ہوں  جس میں مَردوں ، خواتین اور بچوں کے مخلوط (مِلے جُلے) ملبوسات  ہوتے ہیں۔  ہمارے پاس جب مال پہنچتا ہے تو ہم ان  ملبوسات کو الگ الگ کر کے فروخت کرتے ہیں، یعنی بچوں کے الگ، مَردوں کے الگ اور خواتین کے الگ۔ پھر ہمارے اس مجموعی مال  میں خواتین کےملبوسات مکمل (بازو پورے، شلوار پوری) بھی ہوتے ہیں، یعنی جو شرعی حدود میں ہوتے ہیں لیکن   کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو  شرعی تقاضوں پر پورا نہیں اترتے، مثلاً کسی کے بازو پورے نہیں ہوتے تو کسی سے ٹانگیں یا” رانیں”   ننگی رہتی ہیں۔ ایسے ملبوسات خواتین خریدتی رہتی  ہیں، ضروری نہیں کہ وہ اسے  پہن کر باہر گھومتی رہیں بلکہ وہ خواتین بھی یہ لباس لیتی ہیں جو صرف رات کو (اپنے  شوہر کے لیے)استعمال کرتی ہے۔

اب اس بارے میں دو باتیں  دریافت طلب ہیں:

(1)     ہمارے لیے ایسے غیر شرعی  ملبوسات کی خرید و فروخت کرنا کیسا ہے؟

(2)     خواتین کے لیے ایسے لباس کو استعمال کرنا کیسا ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

(1)     ایسے ملبوسات کی خرید و فروخت جائز ہے۔

(2)     خواتین  کے لیے ایسے لباس کو خریدنا جائز ہے، البتہ اپنے شوہر کے علاوہ کسی اور کے سامنے پہن کر آنا جائز نہیں۔

© Copyright 2025, All Rights Reserved