- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
میں اصلاً پاکستانی ہوں اور سعودی عرب میں ملازمت کرتا ہوں۔ رمضان المبارک اور عید الفطر کے موقع پرمیرے بیوی بچے بعض مرتبہ میرے ساتھ سعودی عرب میں مقیم ہوتے ہیں اور بعض مرتبہ پاکستان چلے جاتے ہیں اور وہیں عید کرتے ہیں۔ میں یہاں سعودی عرب میں مقیم ہوتے ہوئے اپنا اور بیوی بچوں کا صدقۃ الفطر پاکستان میں بھجوانا چاہتا ہوں۔ پوچھنا یہ ہے کہ میں صدقۃ الفطر کی جنس (گندم، کھجور، کشمش، جَو) کا حساب کس ملک کے اعتبار سے کروں، سعودی عرب کے اعتبار سے یا پاکستان کے اعتبار سے؟ بیوی بچے یہاں میرے ساتھ ہوں یا پاکستان میں ہوں، ہر صورت میں کیا حکم ہو گا؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
اس حوالے سے چند باتیں سمجھ لیجئے:
[1]: جس شخص پر صدقۃ الفطر واجب ہو اس کی جگہ کا اعتبار کیا جائے گا۔ آپ چونکہ سعودی عرب میں مقیم ہیں اس لئے سعودی عرب کے نرخ کے مطابق صدقۃ الفطر ادا کریں؛ چاہے یہ رقم سعودی عرب میں ہی ادا کریں یا پاکستان بھجوائیں۔
[2]: مرد پر اپنی ذات کے علاوہ اپنی نا بالغ اولاد کا صدقۃ الفطر بھی واجب ہوتا ہے۔ اس لئے آپ کے وہ بچے جو نا بالغ ہیں ان کے صدقۃ الفطر کی ادائیگی بھی آپ کے ذمہ ہے چاہے وہ آپ کے ساتھ سعودی عرب میں مقیم ہوں یا پاکستان میں آ چکے ہوں۔ ان کے صدقۃ الفطر کی ادائیگی بھی آپ سعودی عرب کے نرخ کے مطابق ہی پاکستان بھجوائیں گے۔
[3]: آپ کی بیوی اور بالغ اولاد اگر صاحب نصاب ہوں تو ان کا صدقۃ الفطر ادا کرنا خود انہی پر واجب ہے۔ اگر وہ سعودی عرب میں مقیم ہوں تو سعودی عرب کے اعتبار سے پاکستان بھجوائیں گے اور اگر پاکستان میں مقیم ہوں تو پاکستان کے اعتبار سے یہاں ادا کریں گے۔
[4]: اگر آپ اپنی بیوی اور بالغ بچوں کا صدقۃ الفطر ان کی اجازت سے خود ادا کرنا چاہیں تو بیوی بچوں کے سعودی عرب میں ہونے کی صورت میں تو سعودی عرب کے نرخ کا اعتبار کریں گے اور اگر بیوی بچے یہاں پاکستان میں ہوں تو پاکستان کے نرخ کے اعتبار سے ادا کرنا بھی جائز ہے لیکن بہتر یہ ہے کہ ادائیگی سعودی عرب کے نرخ کے مطابق ہی بھجوائیں کیونکہ اس میں فقراء اور مساکین کا نفع زیادہ ہے۔
علامہ علاء الدین محمد بن علی بن محمد الحصکفی الحنفی(ت1088ھ) لکھتے ہیں:
“وفي الفطرة مكان المؤدي عن محمد وهو الأصح لأن رؤوسهم تبع لرأسه.”
(الدرالمختار: ج3 ص358، 359 باب المصرف)
ترجمہ: صدقۃ الفطر کی ادائیگی میں اس جگہ کا اعتبار ہو گا جہاں ادائیگی کرنے والا موجود ہے۔ امام محمد بن الحسن الشیبانی رحمہ اللہ سے یہی منقول ہے اور یہی موقف صحیح ہے۔ وجہ یہ ہے کہ جن لوگوں کی طرف سے ادائیگی کرنی ہے وہ اسی ادا کرنے والے شخص کے تابع ہیں۔
علامہ محمد امین بن عمر بن عبد العزیز ابن عابدین شامی (ت1252ھ) لکھتے ہیں:
(قوله: وهو الأصح) بل صرح في النهاية والعناية بأنه ظاهر الرواية، كما في الشرنبلالية، وهو المذهب كما في البحر.”
(رد المحتار مع الدر المختار: ج3 ص358، 359 باب المصرف)
ترجمہ: (ہدایہ کی شروحات) نہایہ اور عنایہ میں ہے کہ یہی قول (کہ ادائیگی کرنے والے کی جگہ کا اعتبار ہو گا) ظاہر الروایۃ ہے جیسا کہ شرنبلالیہ میں ہے، اور یہی قول مذہب (مختار ومفتیٰ بہ) ہے جیسا کہ بحر الرائق میں ہے۔
© Copyright 2025, All Rights Reserved