- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
عرض خدمت یہ ہے کہ شہر کے ایک معروف علاقے میں ہمارا ایک فنکشن ہال ہے، جسے ہم مسلمانوں کے ساتھ ساتھ دیگر مذاہب کے لوگوں کو (مختلف تقریبات کے لیے)کرایہ پر دیا جاتا ہے۔ فنکشن ہال سے متصل ایک چرچ ہے، جس میں ہر اتوار کو ان کا ہفتہ واری پروگرام ہوتا ہے۔ جگہ کی تنگی کی وجہ سے چرچ کے ذمہ داروں نے دو سال کے لیے ہر اتوار ہمارا فنکشن ہال کرایہ پر حاصل کیا ۔ اس طرح ہر اتوار صبح نو تا ایک بجےدن ان کا پروگرام (جو درس ِ بائبل اور دعا پر مشتمل ہوتا ہے) ہمارے فنکشن ہال میں منعقد ہوتا ہے۔ درس بائبل اور دعا کے علاوہ اس پروگرام میں اور کچھ نہیں ہوتا ۔
ان سے معاہدہ ایک سال کا مکمل ہوچکا ہے، مزید ایک سال باقی ہے۔ ہم فنکشن ہال والے ان سے لی ہوئی کرایہ کی رقم فنکشن ہال کے ٹیکس میں استعمال کرتے ہیں۔ اب دریافت یہ کرنا ہے کہ کیا اس طرح ہمارا فنکشن ہال کرایہ پر دینا شرعاً درست ہے یا نہیں؟ اگر درست نہیں ہے تو اب ہمیں کیا کرنا ہوگا؟ نیز سابقہ موصولہ کرایہکی رقم کا استعمال جائز ہوا یا نہیں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے:
﴿وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوٰى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللّٰہَ إِنَّ اللّٰہَ شَدِيدُ الْعِقَابِ﴾
(سورۃ المائدۃ: 2)
ترجمہ: نیکی اور تقویٰ میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرو، اور گناہ اور ظلم میں تعاون نہ کرو، اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ بلاشبہ اللہ کا عذاب بڑا سخت ہے۔
امام ابوبکر احمد الرازی الجصاص رحمہ اللہ (ت:370ھ) اس آیتِ کریمہ کی تفسیر میں لکھتے ہیں:
وَقَوْلُهٗ تَعَالٰى “وَتَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوٰى” يَقْتَضِيْ ظَاهِرُهٗ إِيْجَابُ التَّعَاوُنِ عَلٰی كُلِّ مَا كَانَ طَاعَۃً لِلّٰہِ تَعَالٰى ، لِأَنَّ الْبِرَّ هُوَ طَاعَاتُ اللّٰہِ . وَقَوْلُهٗ تَعَالٰى: “وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ” نَهْىٌ عَنِ مُعَاوَنَةِ غَيْرِنَا عَلٰى مَعَاصِي اللّٰہِ تَعَالٰى.
(احکام القرآن للجصاص: ج2 ص 429)
ترجمہ: اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿وَتَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوٰى﴾ کے ظاہر کا مقتضا یہ ہے کہ ہر اس کام میں تعاون کرنا لازم ہے جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں داخل ہو کیونکہ نیکی کے سارے کام اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہی ہیں اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ﴿وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ﴾ کا مقتضیٰ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور معصیت کے کام میں غیر سے تعاون اور مدد کرنے سے منع کرنا ہے۔
اس آیتِ کریمہ کی روشنی میں تفصیل یہ ہے کہ اگر کسی کو مکان یا دکان اجرت پر دیتے وقت معلوم ہو کہ وہ اسےکسی جائز مقصد کے لیے استعمال کرے گا تو اجرت پر دینا بھی جائز ہے اور اس کا معاوضہ بھی حلال ہے۔ پھر اگر وہ کرایہ دار اس میں کسی معصیت کا ارتکاب کرے تو اس گناہ میں اجرت پر دینے والا شریک نہیں ہو گا۔ لیکن اگر معلوم ہو کہ اجرت پر لینے والا کفر، شرک یا کسی بھی حرام اور ناجائز کام میں استعمال کرے گا تو تعاون علی المعصیت کی وجہ سے یہ حرام ہو گا اور اس کی اجرت بھی پاکیزہ نہیں ہو گی۔
آپ کا عیسائیوں یا دیگر کسی غیر مسلم کو عبادت اور مذہبی رسومات کی ادائیگی کی غرض سے فنکشن ہال اجرت پر دینا جائز نہیں ہے، (ہاں اگر کسی جائز مقصد کے لیے دیں اور ضمناً وہ اپنی عبادت بھی کر لیں تو آپ پر اس کا وبال نہ ہو گا) کیوں کہ غیر مسلم لازماً غیر اللہ کی عبادت کرتا ہے اور یہ صریح شرک ہے، اور کفریہ و شرکیہ افعال کی ادائیگی کے لیے کسی بھی قسم کا تعاون کرنا ”تعاون علی المعصیت“ کی بناء پر ناجائز اور حرام ہے۔
آپ بھرپور کوشش کر کےان چرچ والوں کو اپنی مجبوری بتا کر باقی ایک سال کا معاہدہ منسوخ کرنے پر آمادہ کریں۔ اگر وہ تیار ہو جائیں تو ختم کر دیں، اگر فساد اور جھگڑے کا خدشہ ہو تو پھر یہ ایک سال برداشت کر لیں، اس کے بعد ایسا کوئی معاہدہ نہ کریں۔ یہ معاملہ چونکہ ناجائز واقع ہوا ہے اس پر استغفار کریں اور اس کا جو معاوضہ مل چکا اور استعمال ہو گیا اس پر بھی خوب عاجزی سے استغفار کریں۔ باقی آئندہ ملنے والے معاوضہ کو کسی ذاتی استعمال میں نہ لائیں بلکہ ثواب کی نیت کے بغیر غرباء میں تقسیم کر دیں۔
© Copyright 2025, All Rights Reserved